
آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے وفاقی وزیر اویس لغاری برائے توانائی (پاور ڈویژن) حکومت پاکستان اور وفاقی سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان پاور ڈویژن حکومت پاکستان اسلام آباد سے IRA-2012 کی دفعات (3)35 کے تحت مرکزی یونین کی جانب سے ہڑتال کا نوٹس ارسال کردیا ہے قبل ازیں یونین نے (۱)چٹھی نمبر141 مورخہ 02.12.2025 کو IRA کی دفعہ 20 کے تحت ایجنڈا (۲) یونین نے چٹھی نمبر563-66/GL-601 مورخہ 20.12.2025 کوIRA کی دفعہ 34 کے تحت ڈسپیوٹ نوٹس (۳) IRA-2012 کی دفعات (1)35 اور (2)کے تحت پہلے سے دیئے گئے ایجنڈا اور ڈسپیوٹ نوٹس پر بات چیت کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ان پیش کردہ بحوالہ چٹھیوں کی کوئی سنتوائی نہیں ہوئی یونین ہذا نے بحوالہ مندرجہ بالا حوالہ جات IRA-2012 کی دفعہ 20 ، دفعہ 34 اور دفعہ (1)35 کے تحت ایجنڈا ، ڈسپیوٹ نوٹس اور باہمی بات چیت کیلئے Notices دے رکھے ہیں IRA-2012 کی دفعہ (3)35 کے مطابق ضروری تھا کہ وزارت پاور ڈویژن کو ایجنڈا کے مطابق بجلی کی کمپنیوں پر بطور اسٹیک ہولڈر یونین کے خدشات دور کرنے اور محنت کشوں کے آئینی اور قانونی حقوق کو مانتے ہوئے درپیش مسائل کے حل اور ادارے کی ترقی کے متعلق بات چیت کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن وزارت پاور ڈویژن نے قانون کے تحت 10 دن گزرنے کے باوجود بات چیت کا اہتمام نہیں کیا جو قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔لہذا سی بی اے یونین IRA-2012 کی دفعہ (3)35 کے تحت ہڑتال کیلئے 10 دن کا نوٹس دیتے ہوئے امید رکھتی ہے کہ ہڑتال کی میعاد کے اندر باہمی مذاکرات کے قانونی طریقہ کار کے تحت درپیش مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیئے جائیں ۔ اس وقت پورے ملک کے محنت کشوں کا یونین کی قیادت پر سخت دبائو ہے کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کیلئے مذاکرات کے ذریعے مسائل وزارت توانائی (پاور ڈویژن) سے حل کرائیں یا باامر انتہائی مجبوری قانون کے تحت ہڑتال کی اپیل پر عمل درآمد کیلئے ملک بھر کے محکمہ بجلی کے کارکنوں کو 26جنوری 2026 کو ہڑتال کی کال دی جائے گی تاکہ پورے ملک کے محنت کشوں ہرتال کی اپیل پر عمل کرکے اپنے جائز انسانی حقوق اور وزارت توانائی کی یکطرفہ نجکاری سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد کی مزاحمت کرسکیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیبر ھال حیدرآباد میں صوبائی نمائندگان کے ایک اہم اجلاس سے کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اجلاس میں صوبائی جنرل سیکریٹری سندھ اقبال احمد خان، اعظم خان، محمد حنیف خان، الادین قائمخانی، نور احمد نظامانی کے علاوہ شعبہ خواتین کی چیئرپرسن ثروت جہاں کے علاوہ دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔ قائد مزدور عبداللطیف نظامانی نے مزید کہا کہ ہماری یونین ملک گیر تنظیم ہے جسکے کارکن ملک بھر کے تقریباً 5 کروڑ صارفین کو بجلی کی سپلائی بحالی رکھے ہوئے ہیں، وہ سردی ، گرمی ، برسات ، آندھی طوفان ، پہاڑی مقامات ، ریگستانی گرم ترین علاقہ جات ، برف پوش مقامات میں بجلی کی روانی وبحالی یقینی بناتے ہیں گذشتہ 9سالوں سے بجلی کمپنیوں میں بھرتی نہیں ہوئی کارکن دُگنا کام کررہے ہیں دوران کام ہر سال کئی قیمتی جانیں بھی قربان کرتے چلے آرہے ہیں ، ہماری تنظیم نے ہمیشہ صنعتی امن کو فوقیت دے کر ایک ٹیم کی صورت میں محکمانہ فرائض سرانجام دیئے ہیں۔ یونین ہذا اس تمام صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے استدعا کرتی ہے کہ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012ء کی سیکشن (3)35 کے تحت دیئے جانے والی ہڑتال کے اس نوٹس پر قانون کے مطابق درپیش مسائل جس میں بجلی کی کمپنیوں کی یکطرفہ نجکاری پر خدشات اور محنت کشوں کے آئینی اور قانونی حقوق کی پاسداری کیلئے ان کے مسائل پر مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جاسکے۔ اس موقع پر صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان نے صدر یونین کو یقین دھانی کرائی کہ سندھ کا محنت کش ہائیڈرو یونین کے نہ صرف ساتھ ہے بلکہ ہائیڈرو یونین کا قلعہ ہے۔ جس نے ہر برے وقت میں قانونی ، آئینی جدوجہد ہو یا ریفرنڈم ہمہ وقت یونین کی کال پر لبیک کہا اور انشاء اللہ تعالیٰ نجکاری کے حوالے سے بھی جو بھی فیصلہ مرکز کی جانب سے ملے گا اس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔
