سیہون،
22 جنوری 2026ء
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے 7 سے 9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سیہون کے کانفرنس روم میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اوقاف، مذہبی امور، زکوٰۃ اور عشر سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے کی۔
اجلاس میں امن و امان، سیکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، رہائش، بجلی، پانی اور زائرین کو فراہم کی جانے والی دیگر بنیادی سہولیات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عرس مبارک کے دوران زائرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت لال شہباز قلندر کا عرس ایک بین الاقوامی مذہبی اجتماع ہے جسے کامیاب بنانے کے لیے تمام ادارے بھرپور کردار ادا کریں تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے کہا کہ سندھ حکومت عرس کے موقع پر زائرین کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ انڈس ہائی وے کو مسافروں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔ سرد موسم کے باوجود منرل واٹر کی بوتلیں اور پانی کی سبیلیں قائم کی جائیں گی۔ ریسکیو 1122 کو مزید فعال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ خود انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ اس سال تقریباً 30 لاکھ زائرین سیہون آئیں گے۔
ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عرس کے دوران سیکیورٹی کے لیے پانچ ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک 312 کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ واک تھرو گیٹس، ڈرون کے ذریعے فضائی نگرانی اور دیگر سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی سہولیات سے آراستہ 30 طبی کیمپس قائم کیے جائیں گے جبکہ معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے فوڈ انسپیکشن کیمپس 24 گھنٹے کام کریں گے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق پانی کی سبیلیں قائم کی جائیں گی، حیسکو کی جانب سے لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، 10 عارضی واش رومز بنائے جائیں گے اور اسلحہ کی نمائش کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ فائر بریگیڈ کی دستیابی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔
ایس ایس پی جامشورو محمد ظفر صدیق چھانگا نے بتایا کہ عرس کے دوران سیکیورٹی کے لیے شہر کو آٹھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون کی نگرانی ڈی ایس پی کرے گا۔ اڑل واہ اور دانستر سپنا جھیل پر ڈوبنے کے واقعات سے بچاؤ کے لیے نیوی کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ ٹریفک مینجمنٹ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی ہوگی۔
چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف مختیار علی ابڑو نے بتایا کہ افتتاحی تقریب کے لیے گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور اختتامی تقریب کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کی جانب سے عرس سے قبل تمام ذمہ داریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ درگاہ کی صفائی ستھرائی، چار آر او پلانٹس کی فعالیت اور طبی کیمپس کے قیام کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ زائرین کو صاف پانی اور علاج کی سہولت میسر ہو۔
ڈی ایچ او جامشورو نے بتایا کہ عرس کے دوران طبی سہولیات کے لیے مکمل انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے سیہون کے بلدیاتی اداروں کو صفائی اور دیگر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی جس پر افسران نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ موٹر وے پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی اپنے فرائض انجام دیں گے۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے پانچ کیمپس قائم کیے جائیں گے جو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔
اجلاس میں سابق ایم این اے سکندر راہپوٹو، فقیر ممتاز علی منگی، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر عاجز دھامراہ، صوبائی سیکریٹری اوقاف اختر حسین بگٹی، ڈویژنل کمشنر حیدرآباد، اسپیشل سیکریٹری اوقاف سید عطاء اللہ شاہ، ایس ایس پی جامشورو اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے کہا کہ حضرت لال شہباز قلندر کا عرس ملک کا بڑا مذہبی اجتماع ہے جہاں دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس تاریخی اور روحانی ایونٹ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈس ہائی وے اب وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی کاوشوں سے محفوظ اور بہتر سڑک بن چکی ہے جو زائرین کے لیے سہولت کا باعث ہوگی۔
