حیدرآباد چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو،حیدرآباد، عبدالخالق شیخ نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے تاجروں اور صنعتکاروں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے زیرو ٹالیرینس پالیسی نافذ ہے اور اگر کسی افسر کی جانب سے ہراسمنٹ کی شکایت ثابت ہو جائے تو اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر حکومتِ پاکستان کی جانب سے بنائے گئے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کرانے کا ذمہ دار ادارہ ہے، جبکہ تمام ٹریڈ باڈیز اور چیمبرز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آواز کے ذریعے قانون میں بہتری اور ترامیم کے لیے حکومت تک مؤثر انداز میں تجاویز پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو سہولیات فراہم کرنا ایف بی آر کی اولین ترجیح ہے، تاہم دنیا کی کوئی بھی قوم اپنی ٹیکس پالیسیوں سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتی۔ باہمی اعتماد اور مشاورت کے ذریعے ہی ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
چیف کمشنر نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر اور ریجنل ٹیکس آفس حیدرآباد کے درمیان بہترین رابطہ موجود ہے اور اسے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے تاجروں کو یقین دلایا کہ ٹیکسیشن سے متعلق کسی بھی قسم کی رہنمائی کے لیے آر ٹی او کے کمشنرز اور افسران ہر وقت دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نوٹس کو اطلاع سمجھتے ہوئے بروقت جواب دینا چاہیے، تاہم شوکاز نوٹس کی صورت میں فوری طور پر آر ٹی او آفس سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ معاملہ قانون کے مطابق حل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل انوائس کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اس کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے چیمبر کے تعاون سے مشترکہ سیمینارز منعقد کیے جائیں گے تاکہ بزنس کمیونٹی کو نئے نظام سے مکمل آگاہی فراہم کی جا سکے۔
اس سے قبل صدر حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری، محمد سلیم میمن نیاپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تاجر و صنعتکار ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ایک منصفانہ، سادہ اور شفاف ٹیکس نظام کی خواہاں ہے۔ اگر ٹیکس پالیسیوں کی تشکیل میں چیمبرز اور ٹریڈ باڈیز کو باقاعدہ مشاورت کا حصہ بنایا جائے تو ٹیکس نیٹ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس آگاہی اور رضاکارانہ تعمیل کے فروغ کے لیے ایف بی آر کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا.
اس موقع پر کنوینر ایف بی آر سب کمیٹی اور سرپرست چیمبرحاجی یعقوب نے اپنے خطاب میں فیلڈ لیول پر درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ، نوٹسز اور سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں مزید آسانی کی ضرورت ہے تاکہ تاجروں کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آر ٹی او اور چیمبر کے درمیان مستقل رابطہ کمیٹی قائم کی جائے تاکہ شکایات اور ابہامات کا بروقت ازالہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انوائس اور دیگر اصلاحات پر مکمل رہنمائی فراہم کی جائے تو ٹیکس تعمیل میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
اس موقع پر ایڈوائزر ایف بی آر سب کمیٹی چیمبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بزنس کمیونٹی کو آڈٹ، نوٹسز اور ریکوری کے معاملات میں متعدد قانونی اور عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ Income Tax Ordinance, 2001 کی دفعات 177، 120، 138، 214C، 140 اور 175 کے تحت دیے گئے اختیارات کے استعمال میں توازن اور شفافیت ضروری ہے تاکہ کاروباری طبقہ دباؤ کا شکار نہ ہو۔ اسی طرح Sales Tax Act, 1990 کی دفعات 7، 8، 73، 37 اور 38 کے تحت ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ، سرچ اور ضبطی سے متعلق امور میں سہولت اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ Active Taxpayers List سے متعلق سخت شرائط، بھاری جرمانے اور تکنیکی پیچیدگیاں تاجروں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، لہٰذا ایک سہل، منصفانہ اور سہولت پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے، ریجنل ٹیکس آفس میں مؤثر ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے اور اپیل کے دوران کاروبار کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ مل سکے۔ اس موقع پرکمشنر ز نائب علی پٹھان،شمیم احمد، ایڈیشنل کمشنر حسنین احمد ہالی، سرپرستِ اعلی سیٹھ امین کھتری، سرپرست مسعود پرویز، سابق صدور، ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کنوینئیرز بھی موجود تھے۔
