


کھاریاں پریس کلب کے اہم اجلاس میں تنظیمی و فلاحی فیصلے، آئینی ترامیم پر غور، چوہدری قربان گجر کو عمرہ کی سعادت دلانے کا اعلان۔۔۔
کھاریاں (شاہد بیگ سے ) کھاریاں پریس کلب کا ایک اہم اور باوقار اجلاس زیرِ صدارت صدر سید تنویر نقوی منعقد ہوا، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ھوا بلال بٹ نے سعادت حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیلم بٹ نے پیش کی جبکہ اجلاس کی کارروائی جنرل سیکریٹری آفتاب احمد نذر نے پیش کی۔ اجلاس میں تنظیمی، فلاحی اور آئینی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران چوہدری قربان گجر کو عمرہ کی سعادت کے لیے بھیجنے کا متفقہ اعلان کیا گیا، جس پر عیدالفطر کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس اعلان پر شرکاء نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے پریس کلب کی جانب سے ایک قابلِ تحسین اقدام قرار دیا۔
اجلاس میں پریس کلب کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا اور حالیہ تقریبِ حلف برداری کے کامیاب انعقاد پر نو منتخب کابینہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر کھاریاں پریس کلب کے عہدیداران کے لاہور پریس کلب کے دورے کے حوالے سے بھی بات کی گئی اور باہمی روابط کے فروغ پر زور دیا گیا۔اجلاس میں انجمن تاجران مین بازار کھاریاں کے انتخابات اور اس موقع پر کھاریاں پریس کلب کے مثبت، فعال اور غیرجانبدار کردار کو سراہا گیا۔ شرکاء نے صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پریس کلب کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا۔آئین میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے سینئر صحافی زمان احسن نے مفید تجاویز پیش کیں، جنہیں مزید غور کے لیے آئینی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اس بات پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کا حتمی فیصلہ تمام اراکین کی مشاورت اور دو تہائی اکثریت کی منظوری سے کیا جائے گا تاکہ ادارے کی جمہوری روایات برقرار رہیں۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کھاریاں پریس کلب ایک باوقار اور ذمہ دار ادارہ ہے، جس کی رکنیت صرف اُن صحافیوں تک محدود ہوگی جو کسی رجسٹرڈ اخبار یا ٹی وی چینل سے وابستہ ہوں۔ تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ پریس کلب ایک کھلا اور متحرک پلیٹ فارم ہے جو ہر نئے، باصلاحیت اور اہل صحافی کو خوش آمدید کہتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جبکہ ملکی سلامتی، صحافتی برادری کی ترقی، اتحاد اور ادارے کی مزید کامیابیوں کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
