
98فی صد ساٸلین کو تیزترین,بلامعاوضہ اور بغیر وکیل کے انصاف فراہم کیا.سید رضوان احمد
مٹیاری جام شورو لیاقت کالونی حیدر آباد سٹی لطیف آبادسمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں کھلی کچہریاں لگاکر بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ڈاکٹر شیخ امتیاز
ہرشہری بد انتظامی ، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کوئی بھی شکایت ہو وفاقی محتسب سے رجوع کر سکتا ہے,میڈیا سے غیررسمی گفتگو
حیدر آباد ( ) وفاقی محتسب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایڈواٸزر ایمبیسیڈر (ر) سید رضوان احمد نے کہا ہے کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ کسی قسم کی رشوت ستانی، یا عوام کو بیجا تنگ کرنے کا آڈیو/ وڈیو ثبوت اکھٹا کر کے پیش کرنے سے بھی اس مسئلے کا تدارک ہو سکتا ہے۔ ریجنل سیکریٹریٹ حیدرآباد میں میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوۓ انہوں نے کہاکہ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی ہدایت پر مٹیاری جام شورو لیاقت کالونی حیدر آباد سٹی لطیف آبادسمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کو درپیش مشکلات و مساٸل اور وفاقی محکموں کی جانب سے بے قاٸدگیوں,بدعنوانیوں کے حوالے سے سامنے لاٸ جانے والی شکایات دور کرنے کے لٸے مسلسل کھلی کچہریوں کے انعقاد کو یقینی بنایاگیاہے
اور ریجنل سیکریٹریٹ حیدرآباد سے رجوع کرنے والے 98فی صد ساٸلین کو تیزترین,بلامعاوضہ اور بغیر کسی وکیل کے انصاف فراہم کیاجانا ادارہ کی بڑی کامیابی ہے
اورآنے والے دنوں میں عوام کاادارے پراعتماد مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔
اس موقع پر
ایسوسی ایٹ ایڈوائزر وفاقی محتسب سیکریٹریٹ ریجنل آفس حیدر آباد سندھ ڈاکٹر شیخ امتیاز علی نے کارکردگی پر اپنی بریفنگ میں بتایاکہ اپنے قیام کے 43 سال کے اس سفر کے دوران ادارہ ساڑھے 25 لاکھ سے زائد خاندانوں کو ریلیف فراہم کر چکا ہے جن کی اکثریت کا تعلق معاشرے کے پسے ہوئے طبقے اور ملک کے دور دراز علاقوں سے ہے۔ سال 2025ء میں وفاقی محتسب نے دولاکھ 61 ہزار 101 شکایات کے فیصلے کئے
ڈاکٹر شیخ امتیاز علی نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت کے ادارے واپڈا,سوٸ گیس,حیسکو پاسپورٹ آفس، ریلویز ، ڈاک، نادرا و دیگر محکموں سے متعلق کسی بھی شہری کو بد انتظامی ، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کوئی بھی شکایت ہو تو وہ وفاقی محتسب سے رجوع کر سکتا ہے
ڈپٹی ڈاٸریکٹر ایڈمن قاضی ناظم نعیم نے میڈیا کووفاقی محتسب سیکریٹریٹ ریجنل آفس حیدرآباد کے انتظامی نظم و نسق اور عملے کے فراٸض و کارکردگی اور شکایات کے اندراج اور اس کے مراحل کے بارے میں بتایا کہ 45 سے 60 دن کے اندر کیس کا فیصلہ سنادیاجاتاہے اور اس پرعملدرآمد کو سوفی صد یقینی بنانے کے لٸے اسسٹنٹ رجسٹرار منیر عباسی کی سربراہی میں باقاٸدگی سے ایک امپلی مینٹیشن سیل شبانہ روز کام کررہاہے اور خود وفاقی محتسب ذاتی طور پراسلام آباد سیکریٹریٹ سے
سندھ کے پانچوں ریجنل سینٹرز سےیومیہ بنیاد پر عملدرآمد رپورٹس طلب کرتے ہیں اس موقع پر اپنے اپنے کیسوں کی شنواٸ پر آۓ حیسکو,سدرن گیس ودیگر محکموں کے مظالم کے شکار شہریوں نے بتایاکہ حیسکو و سوٸ گیس کی جانب سے ان پر لاکھوں روپے کے ناجاٸز و غیر منصفانہ بل تھوپ دیٸے جاتے ہیں اور متعلقہ محکموں کے دفاتر کے دھکے کھانے کے بعد آخری در انصاف ہمارے لٸے وفاقی محتسب ہی ہے جہاں سے ہمیں ہمیشہ بروقت انصاف بغیر کسی سفارش اور پیسہ خرچ کٸے بغیرملا
