


حیدرآباد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آج فروری کا یہ دن ہمارا یادگار دن ہے آج ہی کے دن 27 فروری 2019 کو افواج پاکستان کے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا، اور آج کے دن 27 فروری 2026 کو دشمن بھارت کے پراکسیز کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 27 فروری کا دن قوم کو یاد دلاتا ہے کہ کس طرح 2019 میں پاک فضائیہ نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرکے بھرپور جواب دیا تھا۔ ملک کو درپیش جنگی صورتحال کے باوجود قوم پُرسکون ہے کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج دشمن کے عزائم خاک میں ملا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی بدولت عوام معمول کی زندگی گزار رہے ہیں اور پوری قوم اپنی فوج کو سلام پیش کرتی ہے۔
حیدر آباد پریس کلب میں حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے صحافیوں میں صحت کارڈ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات ، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر دشمن کو تاریخی اور سفارتی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت براہِ راست مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا، اسی لیے پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کروا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی افغان طالبان کی آڑ میں اور کبھی بی ایل اے جیسے عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور آج بھی دشمن اور اس کی پراکسیز کو خفت اٹھانا پڑی ہے۔ پاکستان امن اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، مگر اس پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اسے عبرتناک جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان شہریوں کو برادر سمجھ کر پناہ دی اور وسائل بانٹے، مگر اس کے بدلے میں دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے افغان طالبان رجیم نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا، افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان مخالف عناصر کو لغام نہ دینا قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور یہ وقت سیاسی اختلافات کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ میڈیا کا احترام کیا ہے۔ تنقید کو اصلاح کے طور پر لیا گیا اور کبھی میڈیا پر پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری حکومت کے دل کے قریب ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں جدید سرکاری اسپتال قائم کیے ہیں جہاں ہر شخص کو بلاامتیاز مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین سال قبل انہیں دل کا دورہ پڑا تو ان کا علاج حیدرآباد کے این آئی سی وی ڈی میں ہوا جہاں مکمل میرٹ پر اسٹنٹس ڈالے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھی ملک کی بڑی طبی سہولیات مفت دستیاب ہیں، جن میں اعضا کی پیوندکاری تک شامل ہے، اور دیگر صوبوں سے آنے والے مریض بھی ان سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔صحت سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اسی لیے صحافیوں کو ہیلتھ کارڈز فراہم کیے گئے۔ آئندہ بھی صحافیوں کی سہولیات کے لیے کام جاری رکھا جائے گا اور رکے ہوئے منصوبوں کو فوری حل کیا جائے گا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیدرآباد ان کا گھر ہے اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے جس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مضبوط، صحت مند اور متحد قوم ہی ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے اور “جان ہے تو جہان ہے”۔
تقریب کے دوران مجموعی طور پر 512 صحت انشورنس کارڈ تقسیم کیے گئے۔ تقریب میں پریس کلب کے صدر جنید خانزادہ، ایچ یو جے کے جنرل سیکریٹری علی حمزہ زیدی صدر حامد میاں شیخ، سینئر صحافی علی حسن، ڈویزنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی، ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن، ایس ایس پی شاہزیب چاچڑ، ڈائریکٹر اطلاعات شہزاد شیخ، حمید الرحمان، محمد حسین خان، فیض کھوسو، محمد حسن اور دیگر شریک تھے۔
