
ڈیرہ غازی خان (رانا فیصل سے)پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے عوام کو ناکوں چنے چبوا دیے
ای رجسٹریشن کے نام پر حکومت سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی کے باوجود سہولیات صفر
حکومتی خزانے میں 5100 جبکہ پلرا کو 6100 اور 3300 یا زیادہ مالیت پر 0.01 پرسنٹ ہر رجسٹری کا مقدر ہے
ضبط شدہ رجسٹریوں کا کوئی پرسان حال نہیں تقریباً 3000 سے زائد ضبط ہیں
اکثر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ریونیو عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں
لیکن پلرا کی خود ساختہ پالیسیوں کے آگے بے بس ہیں
ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے صرف 2 ماہ کی قلیل مدت میں 262 میں سے 160 عدالتی فیصلے کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا
ہرضلع میں اس وقت ضلعی انتظامیہ کے تمام افسران عوام کو ریلیف دینے کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ۔
سب رجسٹرار ۔
تحصیلدار اور پٹواری اپنے پلرا لاگ ان میں درپیش مسائل کے ہاتھوں پریشان ہیں
نئے ای اشٹام نظام میں اوور سیز پاکستانیوں کے لیے اشٹام ویری فیکیشن کوڈ کی گنجائش ہی نہیں رکھی گئی
اوور سیز پاکستانیوں کو ای میل پر بھی ویری فیکیشن کوڈ نہیں ارسال کیا جا رہا ۔
حکومت کی جانب سے work from home پالیسی کا اطلاق بھی سب رجسٹرار آفس پر نہیں ہو سکتا ۔
سب رجسٹرارز VPN کنیکشن کی وجہ سے دفتر کے علاوہ کہیں بھی دوسری جگہ جا کر کام نہیں کر سکتے ۔
نہ تو جناب سب رجسٹرار اپنے گھر بیٹھ کر کسی کے بیان ریکارڈ کر سکتے ہیں
اور نہ ہی کسی کے گھر جا کر
وثیقہ نویس
اور اراضی معاون والے حضرات بھی نئے
ای اشٹام سسٹم میں درپیش مسائل سے دو چار ہیں.
