
جامشورو میں گھریلو تشدد کا واقعہ: صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کا فوری نوٹس، متاثرہ خاتون کو تحفظ فراہم
جامشورو: محکمہ ترقیِ نسواں، حکومتِ سندھ کی صوبائی وزیر مس شاہینہ شیر علی نے ضلع جامشورو میں ایک کمزور خاتون کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ گھریلو تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا۔وزیر کی ہدایت پر ویمن کمپلینٹ سیل اور سیف ہاؤس ضلع جامشورو کی انچارج سیدہ قرۃ شاہ کو متاثرہ خاتون کو فوری اور مناسب معاونت فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ویمن کمپلینٹ سیل نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس حکام سے رابطہ قائم کیا اور متاثرہ خاتون کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے۔
اس سلسلے میں انچارج ویمن کمپلینٹ سیل سیدہ قرۃ شاہ نے ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق چھانگا سے رابطہ کیا، جس کے بعد متعلقہ ایس ایچ او خیر محمد ملاح نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے تحفظ کو یقینی بنایا اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ویمن کمپلینٹ سیل کی انچارج سیدہ قرۃ شاہ کی موجودگی میں متعلقہ تھانے میں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی جبکہ متاثرہ خاتون کو پولیس تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر مس شاہینہ شیر علی نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ایسے معاملات میں فوری اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ متاثرہ خواتین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔ دریں اثنا ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق چھانگا کی سربراہی میں پولیس حکام نے اس کارروائی میں بھرپور تعاون فراہم کیا، جبکہ ایس ایچ او خیر محمد ملاح سمیت دیگر متعلقہ پولیس افسران نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ محکمہ ترقیِ نسواں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کے تدارک اور متاثرہ خواتین کو فوری مدد، تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے
