حیدرآباد (رپوٹ عمران مشتاق ) سندھ میں ممکنہ گندم بحران کے خدشہ کے پیش نظر گندم امپورٹ کرنے کے لئیے اٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان نے وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ دیا جس کی کاپی وزیر اعظم پاکستان گورنر سندھ صوبائ وزیر خوراک چیف سیکریٹری۔سیکریٹری خوراک ڈائریکٹر خوراک سندھ ڈویژنل کمشنر ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ حیدرآباد کو ارسال کردیں خط میں خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سندھ میں ایک مرتبہ پھر ماضی کی طرح گندم اور اٹے کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اس کے مافیاء تیزی سے سرگرم ہوگئ ہے خط میں حکومت کی جانب سے سندھ کے عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کی غرض سے سرکاری گندم کے اجراء پر ایک اندازہ کے مطابق 85 ارب روپے کی خطیر رقم سے سبسڈی دی گئ ہے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ اربوں روپے کی سبسڈی دئیے جانے کے باوجود شہری مہنگی گندم کا مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں مافیاء نے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے مافیاء کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئیے حکومت سندھ میں گندم کے ممکنہ خوفناک بحران سے بچنے کے لئیے فوری طور پر گندم امپورٹ کرنے کے اقدامات کرے واضح رہے کہ محکمہ خوراک سندھ نے حیدرآباد کے 90 فیصد سے زائد عوام کو آٹا فراہم کرنے والی اٹا چکیوں کو دسمبر کے مقابلے میں سرکاری گندم کوٹہ میں 50 فیصد کمی کرکے اسٹون پالیسی کے تحت یومیہ 88 کلو گندم کوٹہ کے چالان کا اجراء کیا اس کے برعکس بیکری آئٹمز کے لئیے سوجی میدہ فائن اور تندوری آٹا بنانے والی رولر فلور ملز کو فی مل 10 سے 12 ہزار 100 کلو گندم کی بوریوں کے چالان جاری کئیے گئیے ہیں حیدرآباد کی اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کے نرخ اتوار کی شام تک 11300 روپے تک بتائے جارہے تھے جبکہ محکمہ خوراک 100 کلو گندم کی بوری 8000 ہزار روپے میں فروخت کررہا ہے جس پر ذرائع کے مطابق افسران و عملہ آٹا چکی اور ملز مالکان سے فی بوری 1200 سو روپے سے 1500 سو روپے تک مبینہ رشوت طلب کررہا ہے انکار کرنے والوں کو سرکاری گوداموں سے مٹی پتھر جلی ہوئی پاؤڈر اور تنکوں کی مبینہ ملاؤٹ شدہ گندم اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہے جس سے صورتحال گزرتے دن کے ساتھ بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے
