
کراچی : رپورٹ ( محمد حسین سومرو) پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی (CTD) سے وابستہ افسر راجہ خالد ان دنوں محکمانہ انکوائری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان پر عائد الزامات کی جانچ جاری ہے تاہم تاحال ان الزامات کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
راجہ خالد ماضی میں انسداد دہشت گردی کے متعدد آپریشنز میں سرگرم کردار ادا کر چکے ہیں۔ محکمہ پولیس کے بعض افسران اور اہلکار ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سخت گیر مگر منصفانہ اندازِ کار کے معترف ہیں۔
چند سال قبل سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اُس وقت سی ٹی ڈی کے سربراہ چوہدری اسلم (مرحوم) کے پاس ایک شہری نے اپنے علاقے میں سرگرم ایک جرائم پیشہ گروہ کی شکایت کی تھی، جس پر خواتین سے زیادتی اور ڈکیتی کی وارداتوں کے الزامات تھے۔ موقع پر موجود راجہ خالد نے تفصیلات حاصل کیں اور متعلقہ ٹیم کے ساتھ کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق 48 گھنٹوں کے اندر مذکورہ گروہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جرائم اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے افسران کو پیشہ ورانہ دباؤ، خطرات اور بعض اوقات تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں ان کے اقدامات کو قانون اور شواہد کی روشنی میں جانچنا ضروری ہوتا ہے۔
سینئر افسران کا کہنا ہے کہ محکمانہ احتساب کا عمل ادارے کی ساکھ اور شفافیت کے لیے اہم ہے، اور کسی بھی افسر کے بارے میں حتمی رائے انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جانی چاہیے۔
پولیس حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ جرائم کے خلاف سرگرم افسران کی کارکردگی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ قانونی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ ادارے پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
