
خطے میں جنگ اور پاکستان کی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان ایک تنگ راستے پر سفر
یہ 2026ء کا آغاز ہے اور پورا خطہ ایک بھیانک خواب سے گزر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰٖ میں ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جو تنازع بھڑکا، اس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دھواں صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ فضا میں پھیل کر پاکستان جیسے ملک کے لیے بھی سانس لینا دشوار کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں اٹھنے والا خوف اور بے چینی ہے۔ جب ایران پر حملے ہوئے، جب سعودی عرب کی فضا میں میزائل گرے، تو ہر پاکستانی کے ذہن میں یہی سوال تھا: اب ہمارا کیا ہوگا؟
ہماری حکومت اور قیادت اس وقت ایک بہت ہی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف ہمارے بھائی ملک سعودی عرب ہیں، جن کے ساتھ ہمارے دفاعی معاہدے ہیں اور دلی تعلق ہے ۔ دوسری طرف ہمسایہ ملک ایران ہے، جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے ہیں ۔ ایسے میں کوئی بھی قدم غلط پڑنے کا مطلب تباہی ہے وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کی فوری دورے اور ایرانی صدر سے ٹیلیفون پر بات چیت بتاتی ہے کہ حکومت نے اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھ لیا ہے ۔ یہ سفارتی مصروفیات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان جنگ کے بجائے امن کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ہم کسی بھی طرح کے تصادم کے بجائے پُل بنانے کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ راستہ تنگ ہے۔ ماہرینِ تجزیہ کار اس حکمت عملی کو محتاط ابہام کا نام دے رہے ہیں ۔ یعنی ایک طرف تو ہم نے اپنی نیوٹرلٹی برقرار رکھی، لیکن دوسری طرف ہمارے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا یہ کہنا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر ممکن کھڑا ہے اور پھر ایرانی حملوں کی مذمت کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا دل اپنے قریبی دوست کے ساتھ دھڑکتا ہے۔اس سب کے دوران گھر کے اندر بھی معاملات پُرآشوب ہیں۔ افغانستان کی سرحد پر صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان نے افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جسے بعض حلقوں نے کھلی جنگ کا نام دیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو مغرب میں ایک محاذ پر ایران-اسرائیل کشیدگی اور مشرق میں افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں سے نمٹنا ہے۔یہ صرف سرکاری پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ عوامی جذبات سے جُڑا ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دفاعی معاہدوں اور صورتحال پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے ۔ دوسری جانب بعض حلقوں میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ کہیں یہ جنگ ہماری دہلیز تک نہ آ لگے۔ دفاعی وزیر نے اسرائیل کے بڑھتے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تو سابق سفیر ملیحہ لودھی جیسی دانشور شخصیات نے ایسی باتوں کو غیر ضروری قرار دے کر عملی سفارت کاری پر زور دیا اندرونِ ملک معاشی حالات بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ مہنگائی، توانائی کے بحران اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت پر علاقائی کشیدگی کے اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں۔ حکومت نے ایندھن کی بچت اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے اقدامات اٹھائے ہیں، مگر یہ وہ اقدامات ہیں جو عوام پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں ۔غزہ اور ایران پر حملوں کے بعد مسلم امہ میں غم و غصہ ہے۔ پاکستان میں عوام اور سیاسی جماعتوں نے فلسطینیوں اور ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔ لیکن اس جذباتی وابستگی کو عملی سیاست میں ڈھالنا آسان نہیں۔ آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان آج تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ اسے چینی گھڑے کی طرح احتیاط سے چلنا ہے۔ ہمیں اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھنا ہے، مذہبی اور جذباتی وابستگیوں کا احترام کرنا ہے، اور بین الاقوامی تعلقات کی اس بھول بھلیوں میں اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہے۔ اس سفر میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم اور قیادت دونوں متحد ہوں، زبان و بیان کا تحمل برتیں، اور اپنی خارجہ پالیسی کو حکمتِ عملی کی بجائے حکمتِ بالغہ پر استوار کریں۔
