
تحریر طاہراشرف
ایشیا موجودہ صورتحال
ایشیا دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا براعظم آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ترقی کی رفتاریں جغرافیائی سیاسی کشمکش معاشی تبدیلیاں اور سماجی انقلاب سب ایک ساتھ مل کر ایک نئی داستان رقم کر رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں قدیم تہذیبوں کی گونج اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کا ہم آہنگ سفر جاری ہے چین اور انڈیا جیسی معیشتوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں نہ صرف لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا ہے بلکہ عالمی معیشت کے نئے مرکز کے طور پر ابھرے ہیں۔ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے پورے براعظم میں انفراسٹرکچر کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ویت نام، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک ترقی نئی کہانیاں لکھ رہے ہیں تاہم یہ ترقی یکساں نہیں ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسی ترقی یافتہ معیشتیں آبادی کی بڑھتی ہوئی عمر اور نوجوانوں کی کمی جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ پاکستان، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک معاشی عدم استحکام، قرضوں کے بوجھ اور سیاسی بے یقینی کی دوڑ میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ سری لنکا کا معاشی بحران تو پورے خطے کے لیے ایک سبق بن کر سامنے آیا کہ معیشت کا انحصار چند ستونوں پر رکھنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایشیا آج بھی کئی تنازعات کا مرکز ہے۔ مشرق وسطیٰ میں فلسطین-اسرائیل تنازعہ، شام کی خانہ جنگی کے بعد بحالی کی کوششیں، اور یمن کی تباہ کاریاں خطے کے استحکام کو متاثر کر رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد بین الاقوامی برادری کی جانب سے تنہائی اور انسانی بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ، سی پیک جیسے منصوبے، اور خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے اس کشیدگی کو نئی جہتیں دے دی ہیں۔ چین نے بحیرہ جنوبی چین میں اپنے دعوے اور تائیوان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ذریعے علاقائی توازن کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی ہے، جس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس کے برعکس جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) نے علاقائی تعاون اور سفارتی توازن کی ایک مثال قائم کی ہے۔ ان ممالک نے بڑی طاقتوں کے درمیان بیچ میں رہتے ہوئے بھی اپنی خود مختاری کو برقرار رکھا ہے۔ تبدیلی کے معمار ایشیا کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوانوں کا طبقہ ہے۔ براعظم کی نصف سے زائد آبادی پینتیس سال سے کم عمر ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان نے ڈیجیٹل انقلاب کی قیادت کی تو چین نے مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں اور فنانشل ٹیکنالوجی میں نئے معیار قائم کیے۔ انڈیا کا سٹارٹ اپ کلچر اور ڈیجیٹل انڈیا مہم نے ٹیکنالوجی کو عام آدمی تک پہنچا دیا ہے۔
لیکن یہ ڈیجیٹل تقسیم کا مسئلہ بھی سامنے لایا ہے۔ جہاں شنگھائی، سیول یا سنگاپور میں 5G اور مصنوعی ذہانت کا دور ہے، وہیں میانمار، لاؤس یا افغانستان کے دیہات ابھی بنیادی تعلیم اور بجلی جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ایشیا ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔ جنوبی ایشیا میں سیلاب، گرمی کی لہریں، اور گلیشیئرز کا پگھلنا ایک سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا۔ انڈیا میں گرمی کی شدت نے کام کے اوقات تک کو بدل دیا ہے۔ چین میں دریا خشک ہو رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا نے اپنا دارالحکومت جا کرتہ سے نوسانتارا منتقل کرنے کا فیصلہ بھی زیریں سطح کے ڈوبنے کے خطرے کے پیش نظر کیا ہے۔فضائی آلودگی بھی ایشیا کے بڑے شہروں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ دہلی، لاہور، ڈھاکہ اور بیجنگ میں سموگ کی صورتحال نے شہری زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ایشیا کی خوبصورتی اس کے تنوع میں ہے۔ عربی، چینی، ہندوستانی، جاپانی، کوریائی، فارسی اور جنوب مشرقی ایشیائی ثقافتوں کا امتزاج اس براعظم کو منفرد بناتا ہے۔ لیکن عالمگیریت نے اس ثقافتی شناخت کو نئے چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ ایک طرف K-pop جاپانی anime اور بالی وڈ نے پوری دنیا میں اپنی پہچان بنائی ہے تو دوسری طرف مغربی ثقافت کا اثر نوجوانوں میں اپنی روایتی اقدار سے دوری پیدا کر رہا ہے۔
ایشیا کا مستقبل ایک دھاگے میں پرویا ہوا ہے کہ آیا یہ خطہ اپنے تنازعات کو سنبھال پائے گا، معاشی عدم مساوات کو کم کر پائے گا اور ماحولیاتی چیلنجز کا اجتماعی طور پر مقابلہ کر پائے گا۔جو بات امید دلاتی ہے وہ یہ کہ ایشیا نے تاریخ میں ہمیشہ بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ یہاں کے لوگ ان کی محنت ان کی ثقافتی گہرائی اور اب ان کی تکنیکی مہارت، سب مل کر اس براعظم کو نہ صرف عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بنا رہے ہیں بلکہ ایک نئی انسانی تہذیب کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ ایشیا کی موجودہ صورتحال ایک ایسی داستان ہے جو ابھی لکھی جا رہی ہے ایک ایسی داستان جس میں پرانے زخم بھی ہیں اور نئے خواب بھی، جس میں مشکلات بھی ہیں اور بے پناہ امکانات بھی۔ آنے والی دہائی یہ طے کرے گی کہ یہ براعظم صرف ترقی کا نمونہ بن کر رہ جاتا ہے یا امن اور انسانیت کے لیے ایک نیا نمونہ پیش کرتا ہے۔
