
تحریر طاہراشرف.
بجلی گیس پٹرول اور عوام.
روٹی سے لے کر روشنی تک مہنگائی کی اَندھی میں پاکستانی عوام پاکستان میں آج کل ہر طرف بس ایک ہی داستان سنائی دیتی ہے پٹرول کی قیمت نے دم توڑ دیا، بجلی کا بل آسمان کو چھو رہا ہے، اور گیس کی لاگت نے تو جیسے کمر ہی توڑ دی ہے۔ بس جب لگتا ہے کہ اب مزید نہیں بڑھے گا تو اگلی صبح خبر آتی ہے ایک بار پھر اضافہ۔
اور یہ صرف اعداد و شمار کی بات نہیں۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سبزی روٹی دوا کرایہ ہر چیز بھڑک اٹھتی ہے۔ گھر کی عورت کو معلوم ہے کہ جب ڈیڑھ لاکھ روپے کا بجلی بل آئے گا تو کھانے کے پیسے کہاں سے لانا ہے۔ نوکرانی سے لے کر تاجر تک، امیر سے غریب تک — سب دباؤ میں ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مزید سو روپے تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ بس سن کر ہی دل بیٹھ جاتا ہے۔ لوگ گھروں میں بیٹھے یہ سن کر غصے سے پکڑے جاتے ہیں تو کچھ مایوسی میں سر پکڑ کر رہ جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ جو مسلسل اضافوں کا سلسلہ ہے یہ کسی ایک مسئلے کا نہیں، پوری زندگی کے بحران کا نام ہے۔ اب لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی سنے کوئی سمجھے کہ یہ مہنگائی کے نمبرز نہیں، انسانوں کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں دہشت ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت کے پاس مجبوریاں ہوں، لیکن عوام کی مجبوری کا بھی تو کوئی حد ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی کی اس اَندھی میں کسی کو عوام کی ڈھارس بندھائے نہ کہ صرف نئے نرخوں کی فہرست جاری کی جائے۔
بے شک پاکستان میں پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی کا یہ طوفان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے گھر کا بجٹ بے بس ہو چکا ہے، متوسط اور غریب طبقے کی کمائی آمدن سے زیادہ اخراجات میں کھو رہی ہے۔ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کا ایک جھٹکا اور آئی ایم ایف کی شرائط کی سختیاں ان سب نے مل کر عوام پر ایک ایسی معاشی آگ برسائی ہے جس کی لپیٹ میں ہر کوئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں مزید سو روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خبر سن کر لوگوں کے چہروں پر مایوسی اور دل میں خوف ہے تو کہیں کھلے عام غصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایک باپ کے لیے یہ سوچنا کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے پڑھائے گرمیوں میں کولر یا پنکھا کیسے چلائے، سردیوں میں لحاف تو ہے مگر گیس نہیں یہ سب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ لوگ سڑکوں پر نہیں اترتے مگر آنکھوں میں بے بسی اور دلوں میں ایک دھیمی سی چیخ ہے
مجھے نہیں معلوم کہ یہ قافلہ کب رکے گا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اب ہر گزرتا دن لوگوں کے صبر کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ اور اگر یہی حال رہا تو پھر یہ غصہ کسی بھی وقت سیلاب بن کر ٹوٹ پڑے گا۔
گلی کوچوں میں، چائے کی دکانوں پر، بسوں میں، دفاتر میں — ہر جگہ بس ایک ہی بات: “اب کیا ہوگا؟” لوگوں کے چہروں پر مایوسی ہے، دلوں میں غصہ ہے، آنکھوں میں بے بسی۔ مگر کون ہے جو سنے؟ کون ہے جو کچھ بدل دے؟
