
تحریر طاہراشرف
پاکستانی وسائل اور حکومتی ناکامیاں
پاکستانی وسائل اور حکومتی ناکامیوں کی کہانی جب ہم پاکستان کا نام لیتے ہیں تو دماغ میں سب سے پہلے وہ خوبصورت وادیاں سرسبز کھیت، پہاڑوں سے گرتے جھرنے اور زیرِ زمین بچھی معدنی دولت کا تصور آتا ہے۔ لیکن افسوس یہ وہ خوابیدہ شہزادی ہے جس کے پاس سب کچھ ہے مگر اپنے محافظوں کی نالائقی کی وجہ سے وہ بھوکی اور ننگی ہے۔پاکستان کو قدرت نے انمول تحفوں سے نوازا ہے۔ سندھ اور پنجاب کی زرخیز زمین بلوچستان میں چھپے کروڑوں ٹن کا تانبا اور سونا خیبرپختونخوا کے قیمتی معدنیات اور تھر جیسی دھرتی جہاں کوئلے کے پہاڑ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم کیوں ترقی کی سیڑھیاں نہیں چڑھ پاتے؟ جواب ڈھونڈتے ہیں تو ایک ہی نام بار بار سامنے آتا ہے حکومتی ناکامیاں یہ کوئی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظام کا وہ زنگ ہے جو دہائیوں سے کھا رہا ہے۔تصور کریں ایک کسان محنت کر کے گندم اگاتا ہے لیکن اس کی فصل منڈی تک پہنچتے پہنچتے درجنوں درمیانی ہاتھ اور چور راستے اسے لوٹ لیتے ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو اسے پاور پالیسی کے چکر بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بدترین سفارشی کلچر سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ نتیجتاً سرمایہ کار بھاگ جاتا ہے اور وسائل زمین میں ہی دفن رہ جاتے ہیں۔ پھر بات آتی ہے نظمی ناکامی کی۔ ہمارے پاس منصوبے تو خوبصورت ہوتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کا نام نہیں۔ ڈیم بنانے کے منصوبے پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن پانی ضائع ہوتا رہتا ہے۔ سولر انرجی کی بات کی جاتی ہے، لیکن گھروں کو بجلی دینے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں روپے ڈوب گئے، لیکن ایک عام پاکستانی کی جان و مال کی حفاظت کا کوئی پکا بندوبست نہیں۔اس سب سے بڑھ کر المیہ ہے۔ کراچی کی بندرگاہ پر درآمد ہونے والے مال میں سے کتنا ٹیکس چوری ہوتا ہے؟ معدنیات کی اسمگلنگ کیسے ہوتی ہے؟ یہ سب ریاستی مشینری کے اندر بیٹھے لوگ طے کرتے ہیں۔ منصوبہ بندی کمیشن کے افسر سے لے کر سیکرٹری تک اگر ایمانداری سے کام لے لیں تو یہ وسائل پورے ملک کو سونا بنانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن افسوس، یہ سونا بھی بندر بانٹتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری بھی غلط ہیں۔ ایک طرف عوام مہنگائی سے پریشان ہیں تو دوسری طرف حکومت نئی نئی عمارتوں، وڈیروں کی سہولیات اور غیر ضروری اسکیموں پر بجٹ اڑا دیتی ہے۔ وسائل تو ہیں، مگر خرچ وہاں نہیں ہوتا جہاں ضرورت ہے۔انسانی انداز میں دیکھیں تو یہ المیہ صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ ہر گھر میں بسا ایک دکھ کی کہانی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو مہنگے دودھ کی بوتل نہیں دے سکتی، جب ایک نوجوان بے روزگاری کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے، جب ایک کسان اپنی محنت کا پھل نہیں پاتا تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وسائل کی دولت نہ ہونا غریب ہے، لیکن انہیں ضائع کرنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ پاکستان کے وسائل اب کوئی راز نہیں رہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی نظام کو انسانی بنیادوں پر دوبارہ ترتیب دیا جائے۔ جوابدہی شفافیت اور حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کو لازمی قرار دیا جائے۔ ورنہ یہ دولت زمین میں دفن رہے گی، اور ہم اسی ویرانے میں آنسو بہاتے رہیں گے۔ اگر نظام بدل جائے تو شاید ایک دن یہی وسائل پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیں اور تب شاید ہمیں اپنے وسائل پر نہیں اپنی حکومت پر بھی ناز ہوگا۔
