حیدرآباد سندھ
ہیومن رائٹس ڈیفینڈر و ایوارڈ یافتہ RTI ایکٹیوسٹ بوٹا امتیاز نے لیگل ایڈ سوسائٹی کے تحت بلا رنگ و نسل مسلک و مذہب قانونی مشورہ جات و مفت قانونی امداد کی فراہمی کے لیے حیدرآباد میں قائم کیے گئے “Justice Hub” کے صوبائی ہیڈ جناب دانش احمد سومرو ایڈووکیٹ و “Justice Hub” حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے کوارڈینیٹر جناب زاہد علی میسو سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے حاضر سروس و ریٹائرڈ سیورمینز کی 14 ماہ سے زائد عرصہ سے واجب الادا تنخواہوں و پنشن کی عدم ادائیگی، سندھ کے سرکاری و نجی اداروں میں لیبر اینڈ ہیومن ریسورسز ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کے 40000 روپے تنخواہ کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد نہ کرنے اور 2023-2022 میں حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 17 سال سے کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے والے سیکڑوں غریب اقلیتی سینیٹری ورکرز کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے فارغ کرنے جیسے اہم مسائل و ان کے قانونی حل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر “Justice Hub” کے صوبائی ہیڈ دانش احمد سومرو ایڈووکیٹ نے بوٹا امتیاز کی جانب سے مذکورہ مسائل کے حل کے لیے ایوان صدر اسلام آباد سمیت صوبائی حکومت سندھ کے اعلیٰ حکام، ون مین کمیشن برائے نفاذ اقلیتی حقوق اسلام آباد،ضلعی انتظامیہ حیدرآباد،اقلیتی اراکین صوبائی و قومی اسمبلی و متعلقہ محکموں کے ساتھ مستقل مزاجی کے ساتھ کی جانے والی خط وکتابت کو بے حد سراہا اور مستقبل قریب میں مذکورہ مسائل کے حل و قانونی چارہ جوئی کے لیے بہت اہم،مثبت و کار آمد قرار دیا۔ دانش احمد سومرو ایڈووکیٹ نے بوٹا امتیاز کو غریب اقلیتی سینیٹری ورکرز کے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے “Justice Hub” سندھ کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دھانی کرائی۔اس موقع پر ہیومن رائٹس ڈیفینڈر بلال احمد خان ناغڑ بھی موجود تھے۔
