حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام حیدرآباد میں طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین میں مفت پنک اسکوٹیز کی تقسیم کی

حیدرآباد
23 مئی 2026
حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام حیدرآباد میں طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین میں مفت پنک اسکوٹیز کی تقسیم کی ایک پروقار تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 200 خواتین کو مفت پنک الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کی گئیں۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئے خود خواتین میں اسکوٹیز تقسیم کیں۔ تقریب میں رکنِ صوبائی اسمبلی امداد پتافی، ڈپٹی میئر صغیر قریشی، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے سلیم اللہ اوڈھو، ڈی آئی جی حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی حیدرآباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومتِ سندھ حیدرآباد میں خواتین کو بلا معاوضہ پنک اسکوٹیز فراہم کر رہی ہے اور یہ سہولت خاص طور پر طالبات، ملازمت پیشہ اور کاروبار سے وابستہ خواتین کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکوٹیز کی تقسیم میں کسی سیاسی وابستگی، جماعت یا لسانی شناخت کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا اور نہ ہی کسی سے ووٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹ دینا ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خصوصاً سندھ وہ واحد خطہ ہے جہاں خواتین کو اس نوعیت کی مفت الیکٹرک اسکوٹی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے بڑے منصوبے جاری ہیں، جن میں 21 لاکھ گھروں کی تعمیر اور ان کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صحت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت کر رہی ہے، جہاں سائبر نائف جیسی جدید اور مہنگی سہولتیں عوام کو مفت فراہم کی جا رہی ہیں، جو دنیا کے چند ہی ممالک اور محدود اسپتالوں میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں آٹزم کے لیے دس سے زائد مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور وفاقی حکومت نے بھی اس حوالے سے سندھ سے معاونت طلب کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے سندھ حکومت ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور ماہرین کے مطابق سستی ترین بجلی کی پیداوار کا سب سے مؤثر ذریعہ کوئلہ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی و نجی شراکت داری کے تحت شاہراہِ بھٹو جیسے اہم منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جنہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سندھ حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت، گھروں کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کرنا اور پنک بس سروس کا آغاز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پنک اسکوٹی اسکیم شروع کی گئی تو سندھ میں خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس رکھنے کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم آج ہزاروں خواتین لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرا رہی ہیں، جو ایک مثبت سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اسکوٹیز صرف خواتین کے استعمال کے لیے ہیں، اگر کوئی مرد انہیں چلاتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو محفوظ ڈرائیونگ کے لیے ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہوگا اور یہ اسکوٹیز سات سال تک فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنیادی مقصد خواتین کو بااختیار، محفوظ اور خودمختار بنانا ہے تاکہ وہ معاشرے اور معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر دیگر مقررین ایم پی اے امداد پتافی، ایم پی اے صائمہ آغا، سابق ایم پی اے زاہد بھرگڑی، ڈپٹی میئر صغیر قریشی اور وسیم راجپوت نے بھی خطاب کیا اور حکومتِ سندھ کے اس اقدام کو خواتین کی سماجی و معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *