بہتر اجرت ، اچھے ماحول کی فراہمی اور صنفی فرق کا خاتمہ محنت کش کا حق ہے خیرت نہیں ہمارے ملک میں قوانین تو بنادیئے جاتے ہیں مگر ان پر اطلاق ناقابل عمل بن چکا ہے حکومت ہر سال مالی بجٹ میں محنت کشوںکی کم ازکم اجرت کا تعین کرتی ہے گوکہ وہ اجرت جو تعین کی جاتی ہے وہ بھی انتہائی ناکافی ہوتی مگر افسوس حکومتی اعلان پر عمل درآمد ایک خواب بن چکا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز ، آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے اور نیشنل لیبر کونسل کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ایک روزہ سمینار بعنوان کم ازکم اجرت پرعمل درآمد کے موضوع پر اپنے خصوصی خطاب میں کیا۔ سمینار میں ٹریڈ یونینز سے وابستہ ملک گیر شخصیات ، ماہر معاشیات ، صحافت ، سول سوسائٹی ، این جی اوز سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی موزوں کو جلابخشی ۔ جن میں عبداللطیف نظامانی نے صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان اور صوبائی میڈیا کوآرڈنیٹر محمد حنیف خان نے پائلر کے ڈائریکٹر عباس حیدر کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ اس موقع پر سمینار میں جن دیگر شخصیات نے شرکت کی ان میں سیکریٹری لیبر ساجدجمال ابڑو، ماہر معاشیات قیصر بنگالی، حبیب جنیدی، محترمہ زہرہ خان، محترمہ منہاز رحمن، ذوالفقار شاہ، ناصر منصور ، لیاقت ساہی، قاضی خضر ، طاہر حسن خان، عابد ہ علی، کرن زبیر ، ریاض حسین بلوچ، وسیم جمالی، شمیم علی، فرحان حیدر، اور ویٹرن جرنلسٹ ہیومن رائٹس ڈیفنپڈر کے حسین نقی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سیمنیار سے خطاب میں قائد مزدور عبداللطیف نظامانی اور دیگر مقررین نے مزید کہا کہ پنجاب میں کم ازکم اجرت کے تحت 41 ہزار دیا جارہا ہے جبکہ سندھ سمیت دیگر ملک میں اس قانون پر عمل نہیں ہورہا ہم حیسکو میں کم ازکم اجرت پر عمل درآمد کرارہے ہیں بہتر اجرت، اچھا ماحول، صنفی فرق کو ختم کرانا ٹریڈ یونینز کی ذمہ داری ہے لیکن یونینز خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں جو ہماری موت کے مترادف ہے آئین کی دفعہ 37 احتجاج کا حق اور دفعہ 17 یونین سازی کا حق دیتی ہے ملک میں قانون تو بنا دیئے جاتے ہیں مگر کسی شعبے میںعمل نہیں ہوتا ماسوائے کمزور افراد پر اس کا اطلاق ۔ انہوں نے خواتین کے کردار کو آگے بڑھانے اور اتحاد پر زور دیا۔ سمنیار میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کم از کم اجرت کا تفاذ فوری طور کرائے جائے، مزدوروں کی تنخواہ بذریعہ چیک دی جائے ، فیکٹری انسپکشن کے نظام کو بہتر اور اسکی نگرانی کیلئے ٹریڈ یونین ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، لیبر اور مالکان پر مبنی کمیٹی تشکیل دی جائے، بین الاقوامی برینڈز اپنے سپلائرکو مزدوروں سے متعلق قوانین کا پابند کیا جائے، کم از کم اجرت کے تعین کیلئے ایک ماہر معشیت کو بطور مشیرویجز بورڈ میں شامل کیا جائے۔یونین بنانے کی آزادی دی جائے حکومتی اداروں کو مزدوروں سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرنے کا پابند کیا جائے۔
محمد حنیف خان (صوبائی میڈیا کوآرڈنیٹر)
