حيدرآباد (رپورٹر) سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، محکمہ صحت کے افسران، ڈاکٹروں اور دانشوروں نے کہا ہے کہ بچوں کو خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچانے کے لیے حکومت کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی تنظیموں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک ہر بچہ ویکسین کے ذریعے بیماریوں سے محفوظ رہ سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل ڈی ایچ او آفس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں حیدرآباد ضلع کی مختلف سماجی تنظیموں کے رہنماؤں اور محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد 9 فروری سے شروع ہونے والی روٹین امیونائزیشن مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تعاون کو یقینی بنانا تھا۔
اجلاس میں ای پی آئی کے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن ڈاکٹر ذوالفقار کوسو، کمیونٹی اسٹاف کے عرفان احمد مہر، وائٹل کے اعجاز ملاح اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں عبدالرزاق عمراانی، میونسپل کارپوریشن کی رکن اور سماجی رہنما زیب النساء ملاح، رحمت اللہ سولنگی، ارشد ملاح سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر پیر غلام حسین نے کہا کہ حیدرآباد میں شروع ہونے والی اس مہم کے اہداف حاصل کرنے کے لیے محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ سیاسی و سماجی تنظیموں، مختلف شعبوں سے وابستہ افراد اور شہریوں کا تعاون نہایت ضروری ہے۔ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے۔ اس مہم کو کامیاب بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیمیں اپنے انسانی خدمت کے جذبے کے تحت اپنے علاقوں میں محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ تمام ہدف شدہ بچوں تک پہنچا جا سکے اور انہیں خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جا سکیں۔
ڈاکٹر پیر غلام حسین نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کے بچوں کو ہر بار پولیو کے قطرے پلائیں اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں، کیونکہ معصوم بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ بنا کر ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے حفاظتی ٹیکوں کی اس مہم میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
