
تفتیشی عمل میں جدید ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا

کراچی: رپورٹ ( محمد حسین سومرو) تفتیشی کارروائیوں میں جدید تکنیکوں کے استعمال نے ایک پراسرار قتل کے معمے کو سلجھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے جہاں ڈیفنس پولیس نے گھریلو ناچاقی کے نتیجے میں اپنی اہلیہ کے قتل کے ملوث شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ڈیفنس پولیس کے تھانے کی حدود میں واقع قیوم آباد کے ایک رہائشی یونٹ میں عشنا اور اس کے شوہر قیوم محبوب رہائش پذیر تھے۔ ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو اختلافات نے 25 دسمبر 2025 کو ایک المناک موڑ اختیار کیا، جب معمولی سے جھگڑے نے ایک سنگین تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ پولیس کے مطابق، قیوم نے غصے میں اپنی اہلیہ عشنا کو قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد، ملزم نے ایک منظم منصوبے کے تحت اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کی۔ وہ مقتولہ کی لاش کو اپنے آبائی گاؤں لے گیا اور وہاں تدفین کر دی۔ تاہم، تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تدفین سے قبل غسل دینے کے دوران، عشنا کے اہل خانہ نے اس کے چہرے پر نمایاں چوٹوں اور مشتبہ نشانات دیکھے، جس سے ان کے اندر شکوک و شبہات نے جنم لیا۔
جب خاندان کے افراد نے کراچی واپس آ کر قیوم سے اس بارے میں سوالات کیے تو اس کے جوابات الجھے ہوئے اور غیر تسلی بخش تھے۔ اس دوران، ملزم نے گاؤں واپس جانے کا بہانہ بنا کر فرار ہونے میں کامیابی حاصل کر لی اور لاپتہ ہو گیا۔
خاندان کے شکوک کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، پولیس کے پاس مقدمہ درج کیا گیا۔ تفتیش کی ذمہ داری تھانہ ڈیفنس کے سب انسپکٹر اور انویسٹی گیشن آفیسر قسیم تنولی کے سپرد ہوئی۔ انہوں نے جدید تکنیکی ذرائع بشمول ڈیٹا تجزیہ اور سراغ رسانی کے جدید آلات کو بروئے کار لا کر ملزم کو ٹریس کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ مہارت کے بعد، قسیم تنولی کی ٹیم نے ملزم قیوم محبوب کو گرفتار کر لیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران، گرفتار ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں اس نے اپنی بیوی کی جان لے لی۔ انویسٹی گیشن آفیسر قسیم تنولی نے بتایا کہ تفتیش کے دوسرے پہلوؤں پر کام جاری ہے اور مزید انکشافات کی توقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گھریلو تشدد کے واقعات میں فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے اور ایسے المناک واقعات کو خاموشی سے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ معاشرے میں گھریلو تشدد کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس کے سنگین نتائج کی طرف ایک اور اشارہ ہے۔ پولیس کے مؤثر اور جدید تحقیقی اقدامات نے نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی راہ ہموار کی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں کو چھپانا جدید دور میں کتنا مشکل ہو گیا ہے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ مضبوط بنیادوں پر تیار کیا جا رہا ہے اور عدالتی کارروائی میں تمام تر شواہد اور تکنیکی ثبوت پیش کیے جائیں گے۔
