
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا تاریخی بیان: “حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کا ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا
کراچی 🙁 رپورٹ محمد حسین سومرو) سندھ کے کچے کے علاقوں میں عرصے سے قابض ڈاکوؤں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے پس منظر میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اہم بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈاکو گروہ برسوں سے حکومت کی قانونی رٹ کو کھلے عام چیلنج کر رہے تھے، جس سے نہ صرف علاقے کے عام شہری خوف و ہراس میں مبتلا تھے بلکہ ریاست کی طاقت پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا تھا۔
مجرم سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اضافہ
آئی جی سندھ کے مطابق، حالیہ برسوں میں کچے کے علاقوں میں مجرمانہ سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اغوا برائے تاوان کے واقعات نے معاشرے کے نازک ترین رشتوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ “ہنی ٹریپ” جیسے خطرناک ہتھکنڈوں کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو پھنسانا معمول بن گیا تھا۔ سرکاری زمینوں پر بزور طاقت قبضے کی وارداتیں نہ صرف حکومتی اثاثوں کو نقصان پہنچا رہی تھیں بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی کاری ضرب تھیں۔
جدید ترین اسلحہ سے لیس ڈاکو گروہ
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان ڈاکوؤں نے صرف روایتی اسلحہ تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا تھا، بلکہ وہ جدید اور بھاری اسلحے سے لیس تھے۔ “یہاں تک کہ ان کے پاس ایسے اسلحے موجود تھے جو سیکیورٹی فورسز کی بکتر بند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ صورتحال محض مجرمانہ سرگرمی نہیں رہی تھی، بلکہ ایک منظم بغاوت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔”
حکومتی حمیت اور سیکیورٹی فورسز کا عزم
آئی جی اوڈھو نے بتایا کہ اس چیلنج کے مقابلے میں صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو بھرپور اعتماد اور حوصلہ افزائی ملی۔ “یہ حمایت و تعاون نہ صرف مالی وسائل کی شکل میں تھا بلکہ ایک واضح سیاسی عزم تھا جس نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورل بلند کیا۔ ہمارے جوانوں نے جانتیں کہ وہ ایک واضح مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں اور انہیں مکمل سپورٹ حاصل ہے۔”
بین القوامی تعاون: سندھ پولیس، پنجاب پولیس اور رینجرز کا مشترکہ محاذ
انہوں نے کارروائی کی کامیابی کی ایک اہم وجہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو قرار دیا۔ “سندھ پولیس، پنجاب پولیس اور پاکستان رینجرز کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن اور باہمی تعاون نے کچے کے علاقوں میں فیصلہ کن کارروائیوں کو ممکن بنایا ہے۔ یہ محض کسی ایک فورس کی کوشش نہیں، بلکہ پورے ریاستی اداروں کا متحدہ محاذ ہے۔”
مشن کا واضح مقصد: خاتمہ یا ہتھیار ڈالیں
آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد مبہم یا وقتی نہیں ہے۔ “ہمارا مقصد واضح اور دو طرفہ ہے: یا تو ان ڈاکوؤں کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے گا، یا پھر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے گا۔ کوئی تیسری راہ نہیں ہوگی۔ اس جنگ میں حکومت، سیکیورٹی فورسز اور پورا معاشرہ ایک متحد محاذ کی صورت میں کھڑا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف موجودہ مجرمانہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ہیں، بلکہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کے لیے ناقابل عبور رکاوٹ کھڑی کرنے کے لیے بھی ہیں۔ “ہم چاہتے ہیں کہ کچے کا علاقہ امن اور ترقی کی علامت بنے، خوف و دہشت کا مرکز نہ رہے۔”
آئی جی سندھ کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے مجرمانہ عناصر کے خلاف اپنی جنگ میں فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں پسپائی کوئی آپشن نہیں۔ علاقے کے باسیوں کی طرف سے بھی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے ان ڈاکوؤں کے مظالم کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
