ایک ایسا واقعہ ایران کے اندر پیش آیا ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ ایک 85 سالہ بزرگ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک، دنیا کی ٹاپ لیول انٹیلیجنس ایجنسی موساد، اس کے بعد دنیا کی دوسری ٹاپ لیول انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے، اور ان کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنے والی دنیا بھر کی ایجنسیوں کو جو شکست دی ہے، ایسا کارنامہ تو جیمز بانڈ کی فلم میں بھی نہیں دکھایا گیا ہوگا۔
جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اب آپ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ آ جائے گی کہ امریکہ کا حملہ کیوں رکا اور اسرائیل کے پاؤں تلے زمین کیوں نکل گئی۔ آئیے ذرا صورتحال کو سمجھتے ہیں کہ ہوا کیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے روس سے بات کی۔ روس نے اسٹارلنک انٹرنیٹ، جو ایلون مسک نے فراہم کیا تھا، اس کے ذریعے سب کو ٹریپ کر دیا۔ تمام ایجنسیاں، اسرائیل، ایلون مسک—سب کو۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایران نے کافی عرصہ پہلے یہ دیکھ لیا تھا کہ اسٹارلنک کے انٹرنیٹ ڈیوائسز ایران کے اندر آ رہے ہیں، اور یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ یہ اسمگل ہو کر آ رہے ہیں۔
ایران نے روس سے وہ ٹیکنالوجی منگوائی جو ریڈیو سگنلز پکڑ سکتی تھی، جہاں سے اسٹارلنک آن ہوتا تھا۔ یہی موقع تھا کہ دہائیوں پر مبنی اسرائیلی نیٹ ورک کو مکمل طور پر پکڑ لیا جائے۔ ایران نے کیا کیا؟ انہوں نے پورے ملک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا۔
جب انٹرنیٹ بند ہوا، اس کے باوجود ویڈیوز اپلوڈ ہونا شروع ہو گئیں۔ تب پتا چلا کہ تقریباً پانچ ہزار اسٹارلنک ڈیوائسز باہر سے آئی تھیں، اور ایران نے جان بوجھ کر انہیں اسمگل ہونے دیا اور ملک میں داخل ہونے دیا تاکہ نیٹ ورک کو ٹریک کیا جا سکے۔
جیسے ہی اسٹارلنک ٹرمینلز آن ہوئے، ان کی ریڈیو فریکوئنسی کے سگنلز کو ٹریک کیا گیا۔ آر ایف اسکینرز، ڈائریکشن فائنڈنگ آلات، موبائل مانیٹرنگ وینز اور دیگر ذرائع استعمال کیے گئے۔ یہی وہ ٹیکنالوجی تھی جو روس نے یوکرین میں اسٹارلنک استعمال کرنے والے ڈرونز کے خلاف استعمال کی تھی۔
ایران نے انٹرنیٹ بند کر کے جیسے ہی سگنلز آن ہونے کا انتظار کیا، ایک ایک کر کے گھروں، عمارتوں اور علاقوں تک پہنچ کر ڈیوائسز پکڑنی شروع کر دیں۔ اتنا تیز آپریشن تھا کہ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔
ڈیوائسز کے ساتھ لوگ بھی پکڑے گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں کس نے ڈیوائس دی، اسمگلر کون تھا۔ یوں پورا نیٹ ورک جڑ سے پکڑا گیا—جنرلز، فوج کے اندر کے لوگ، سرحد سے لانے والے، اندرونی غدار، سب۔
حتیٰ کہ وہ رنگ لیڈر بھی پکڑا گیا جو آیت اللہ کے گھر کے باہر احتجاج کروانے والا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ اسٹارلنک کے ذریعے ویڈیوز باہر بھیج رہا تھا۔ ویڈیوز اسرائیل نہیں بلکہ جرمنی، اٹلی اور دیگر ممالک میں بیٹھے اسرائیلی ایجنٹس کو جا رہی تھیں، جو آگے انٹرنیٹ پر ڈال رہے تھے۔
اسی دوران اسرائیل کو جھوٹے سگنلز دیے گئے کہ آج رات یہ کارروائی ہوگی، فلاں جگہ تک پہنچ گئے ہیں، حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا۔ جب اسرائیل کو اندازہ ہوا کہ ان کا پورا نیٹ ورک پکڑا جا چکا ہے تو اگر وہ براہ راست حملہ کرتے تو امریکی فوجی اڈے تباہ ہو سکتے تھے۔
ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ اگر حملہ کیا گیا تو امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے اڑا دیے جائیں گے۔ امریکہ نے اسی وقت اپنے طیارے واپس بلا لیے، اور حملہ ہوا ہی نہیں۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس میں عام لوگ نہیں مارے گئے۔ بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے، سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی، اور عام احتجاج کرنے والے لوگ بھی، جنہیں فتنہ پھیلانے والوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔
ابتدا میں احتجاج کی اجازت دی گئی، لیکن جیسے ہی عمارتیں، مساجد جلنا شروع ہوئیں، کارروائی کی گئی۔ بعد میں اسرائیل کو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی گڑبڑ نہیں بلکہ بہت بڑا نقصان ہو چکا ہے۔
آخرکار روسی ٹیکنالوجی کے ذریعے اسٹارلنک کو مکمل طور پر جام کر دیا گیا۔
سادہ الفاظ میں ہیڈ لائن یہ بنتی ہے کہ:
85 سالہ بزرگ نے اکیلے اسرائیل، امریکہ اور ایلون مسک کو شکست دے دی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے خود جا کر یہ سب نہیں کیا، بلکہ حکمتِ عملی کے تحت کام ہوا۔ امریکہ اندرونی تباہی پر انحصار کر رہا تھا، مگر وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے واقعے میں ایران کی کوئی بڑی یا نمایاں شخصیت، پارلیمنٹ ممبر یا اعلیٰ فوجی قیادت نشانہ نہیں بنی۔ یہ اسرائیل کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔
اب ٹرمپ ایئرکرافٹ کیریئر منگوا رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ روس اور چین بھی ایران کو مکمل شکست نہیں ہونے دیں گے۔
یہ صورتحال تباہ کن ہے اور حالیہ تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ اتنا بڑا نیٹ ورک مکمل طور پر پکڑا گیا ہو۔ یہ کسی فلم کا منظر لگتا ہے، مگر حقیقت ہے۔
