حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے کہا ہے کہ پاکستان کا توانائی نظام اس وقت عوام اور صنعت دونوں کے لیے ایک سنگین معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں مہنگی بجلی، بھاری ٹیکسز اور آئی پی پیز کو دی جانے والی خطیر ادائیگیوں نے ملکی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے ہوئے کرایوں اور ناقابلِ برداشت بجلی بلوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کھربوں روپے ایسے مالیاتی ڈھانچے میں جھونکے جا رہے ہیں جس کے ثمرات نہ عوام تک پہنچ رہے ہیں اور نہ ہی معیشت کو مطلوبہ استحکام مل پا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پچھلے چند سالوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں پر اضافی ٹیکسز کے ذریعے عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ 3400 ارب روپے جیسی خطیر رقم ہر سال آئی پی پیز کو capacity payments اور دیگر معاہداتی ادائیگیوں کی صورت میں چلی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک تاجر اور عوام کو مشکل میں ڈال کر ایسے نظام کو سہارا دیا جاتا رہے گا جو نہ صنعتی ترقی لا سکا اور نہ ہی عوام کو ریلیف دے سکا۔صدر چیمبر سلیم میمن نے کہا کہ نیپرا رپورٹس، وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار اور مختلف پالیسی جائزوں کے مطابق پاکستان کے توانائی شعبے میں گردشی قرضہ تقریباً 2.6 سے 3.2 کھرب روپے کے درمیان برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، جس کے باعث بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا براہِ راست اثر صنعت، تجارت اور گھریلو صارفین پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ پہلے ہی بھاری ٹیکسز، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف برآمدی مسابقت کو متاثر کیا بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں بھی خطرناک حد تک کمی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی معاشی بحرانوں کے دوران طویل المدتی پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) پر نظرِ ثانی، ری اسٹرکچرنگ اور ری نیگوشی ایشن کی جا چکی ہے تاکہ قومی معیشت کو مالیاتی عدم توازن سے بچایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد چیمبر کسی بھی غیر ذمہ دارانہ یا یکطرفہ معاہدہ ختم کرنے کے مؤقف کی حمایت نہیں کرتا، تاہم موجودہ غیر معمولی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ قانونی و انتظامی آپشنز، بشمول force majeure، کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ ریاست کے طویل المدتی معاشی مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔صدر چیمبر نے حکومت پر زور دیا کہ توانائی پالیسی کو فوری طور پر ازسرِ نو ترتیب دیا جائے، capacity payment ماڈل کا جامع جائزہ لیا جائے اور renewable energy منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا جائے تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر سستی، پائیدار اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور مؤثر توانائی اصلاحات نہ کی گئیں تو صنعتی بقا، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد مزید شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
