
16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کے موقع انڈین وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے بیان جاری کیا تھا ” آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ” دنیا نے بھی بیس بائس سال بعد قائد اعظم اور علامہ اقبال کے دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں ڈوبتے ہوئے دیکھا تھا مگر آج نصف صدی بعد ہر آنکھ محو حیرت ہے کہ وہ ڈوبا ہوا نظریہ دوبارا زندہ ہو کر کس طرح نئی شکل میں سطح آب پر آ نمودار ہوا ہے۔
جماعت اسلامی مشرقی پاکستان آغاز ڈے ہی متحدہ پاکستان کی حامی تھی مجیب کی تحریک کے دوران کھل کر مکتی باہنی فورس اور حملہ اور انڈین فوج کے مقابل مزاحمت کرتی رہی پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ البدر اور الشمس کے بے شمار سر فروشوں نے مادر وطن کی سالمیت اور یکجہتی کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے بنگلہ دیش کے وجود میں انے کے بعد عوامی لیگ کے غنڈوں نے چن چن کر جماعت اسلامی کے حامیوں کو موت کے گھاٹ اتارا حسینہ واجد کی طویل عرصہ حکمرانی کے دوران لیڈروں اور کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا جیلوں اور عقوبت خانوں میں ان پر ستم کے پہاڑ توڑے گئے جبری گمشدگیاں اور پھانسیاں روز کا معمول بنا دیا گیا حتی کہ جماعت اسلامی کے امیر اور سنیئر ترین سیاسی راہنما پروفیسر غلام اعظم کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا گوگل کے مطابق انڈین نواز حسینہ واجد کی حکومت کے دوران 2700 سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو شہید کیا گیا جن میں بی این بی اور دیگر جماعتوں کے اراکین بھی شامل ہیں اپنی دانست میں حسینہ واجد نے اس کے اقتدار کی راہ میں آنے والی تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کا صفایا کر دیا تھا مگر اللہ کا اپنا نظام ہے جو سیاہ رات کی کوکھ سے سورج نکالتا ہے جس کے حکم سے زمین پر زندگی سانسیں بھرتی ہے اسی کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوتا ہے نوجوان طالب علم راہنما عثمان ہادی کی ولولہ انگیز قیادت میں طلبہ تحریک کے دوران 1400 نوجوانوں نے اپنا لہو دے کر ظلم نا انصافی اور فسطائیت کی نمائندہ حکومت کو اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کیا ڈھاکہ یونیورسٹی میں جہاں 1970 میں اسلامی جھاترو شبر کے ناظم عبد المالک اور کئی دیگر طلبہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا اج چھاترو شبر راج کرتی ہے سلہٹ چٹاگانگ کھلنا کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامی چھاترو شبر بھاری اکثریت سے الیکشن جیتی ہے بنگلہ دیش کی جینزی ( نوجوان نسل) گلی کوچوں شہروں دیہاتوں میں ڈھاری ( ترازو ) کے نعرے بلند کرتے نظر آتے ہیں ڈاکٹر شفیق الرحمن جیسے ترقی پسند صاحب بصیرت راہنما میر جماعت ہیں انہوں نے اپنی ولولہ انگیز قیادت مستقل مزاجی جرات استقامت اور فکر مودودی کی روشنی میں جماعت کو لانچنگ پیڈ پر لا کھڑا کیا ہے نیشنل سٹیزن پارٹی کے علاوہ بارہ دیگر جماعتوں کا اتحاد کل فیصلہ کن جیت کے لئے میدان میں اترے گا ان کے مقابل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارثی ہے کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے کسی ایک کی جیت نظریہ پاکستان کی جیت ہو گی یقین واثق ہے کہ مستقبل میں دونوں برادر اسلامی ممالک معاشی سیاسی عسکری تعلمی اور سماجی میدان میں باہم مضبوط رشتے استوار کریں گے ۔۔۔
