
پس آئینہ
سکندربیگ
ایران میں مسلسل کئ روز سے انسانیت کا بے دریغ قتل عام جاری ہے امریکہ اسرائیل اور ان کے سہولت کار ممالک ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنائی کی شہادت کے بعد معصوم شہریوں پر اندھا دھند بارود اور تباہ کن میزائیل برسا رہے ہیں ساری دنیا بشمول اسلامی ممالک اپنے لبوں کو سیئے خاموش کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں ستم در ستم یہ ہے کہ کوئی ملک بھی ان مزکورہ ممالک کے شر کے خوف سے ایرانی مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے ظلم اور مسلط کی جانے والی جنگ کے خلاف آواز بلند نہیں کر رہا جب کہ دوسری طرف سارا مغرب بشمول فرانس جرمنی یو کے جارح امریکہ کی پشت تھپ تھپا رہے ہیں
ایران انقلاب کے بعد مسلسل اندرونی اور بیرونی خلفشار کا سامنا کر رہا ہے تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک نصف صدی سے استعماری طاقتوں کی معاشی دہشت گردی کے نشانے پر ہونے کے باوجود اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑا دکھائی دیتا ہے شاندار تاریخی اور تہذیبی روایات کا حامل یہ ملک طویل جنگیں لڑنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ زخموں پر زخم کھانے کے باوجود پورے قد سے کھڑا ہے ایران کا قصور یہ ہے کہ وہ مظلوم اور محکوم فلسطینوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے خطے میں گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے والوں کی راہ کا سب سے بڑا روڑا ہے باقیوں کی طرح امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نہیں ہوتا اپنی آزادی خود مختاری اور سالمیت کی حفاظت کے لئے دفاعی صلاحیت بڑھانے کی فکر میں رہتا ہے جو کہ اس کا بنیادی حق ہے مگر مقدس ارض فلسطین پر ناجائز قبضہ جمائے اسرائیل ہر دو چار ماہ بعد خوف زدہ ہو کر واویلا شروع کر دیتا ہے ساتھ ہی دنیا کی خود ساختہ عالمی سپر پاور امریکہ اور اس کے ہمنوا ایرانیوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں صاف لگتا ہے کہ یہ جنگ دو یا تین ملکوں کے درمیان نہیں یہ جنگ نظرئیے کی جنگ ہے جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ایران دنیا میں واحد ملک ہے جو وسیع و عریض رقبے کا مالک ہونے کے ساتھ بے تحاشا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اس کی ولولہ انگیز قیادت ایرانی قوم اور مسلمانوں کے جذبات کی ہمیشہ ترجمانی کرتے رہے ہیں ایرانی اپنی جنگجویانہ خصلت کے ساتھ اسلام کے فلسفہ شہادت پر یقین رکھنے والی بہادر قوم ہے جو مظلوم امام حسین کی قربانی اور کربلا میں بہائے جانے والے مقدس خون سے ایمانی طاقت اور توانائی کشید کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ یکہ و تنہا ہونے کے باوجود کبھی شکست تسلیم نہیں کریں گے ان کا مقابلہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار گھٹیا ترین قوم سے ہے جو جنگی ضابطوں کی پرواہ کئے بغیر شہریوں اور ان کے لیڈر کو نشانہ بناتے ہیں ۔۔
پاکستان کے علاوہ دیگر مہذب ممالک اور اقوام متحدہ کو جنگ بندی کے لئے سنجیدہ کوششیں شروع کر دینی چاہیں خدشہ ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں دنیا کسی بڑے سانحہ سے دو چار ہو سکتی ہے ۔۔۔
