زنانہ ہسپتال سے اغواء ہونے والی بچی 5 روز بعد بھی سٹی پولیس بازیاب نہیں کراسکی
حیدرآباد(بیورورپورٹ)سٹی تھانے کی حدود زنانہ ہسپتال گاڑی کھاتہ سے مبینہ طور پر دو گھنٹے کی بچی کے اغواء کو پانچ روز گذر جانے کے باوجود سٹی پولیس ملزمان کو گرفتار کرکے بازیاب کرانے میں ناکام ہوگئی سوشل میڈیا پر اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور خبر وائرل ہونے کے بعد ایس ایس پی حیدرآباد شازیب چاچڑ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا اور ملزمان کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے سٹی پولیس نے ملزمان کیخلاف 36/2026مقدمہ تو درج کرلیا لیکن ملزمان گرفتار نہیں کرکے بچی بازیاب نہ کرسکی ہفتہ کی دوپہر مبینہ طور پر ہسپتال سے اغواء ہونے والی بچی کی ماں کشف نے سوشل میڈیا پر اپنا ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے سٹی پولیس پر رشوت لیکر ملزمان کو سپورٹ کرنے کا الزام لگایا ویڈیو بیان میں ماں کشف کا کہنا تھا کہ میری پیدا ہونے والے لخت جگر کو ظالموں نے قتل کردیا ہیں اگر میری بیٹی قتل ہوگئی تو میں زنانہ ہسپتال کی انتظامیہ ،ایس ایچ او سٹی اور ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرائونگا ۔ویڈیو بیان میں کشف نے اپنی بیٹی کی بازیابی کیلئے آئی جی سندھ جاوید اوڑھو،ڈی آئی جی حیدرآباد طارق رزاق دھاریجو اور ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیکر ملزمان کو گرفتار کرکے بچی زندہ ہے تو اسے بازیاب کرائے۔
