امن کی طالب دنیا
ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے سینیئر صحافی جاوید صدیقی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ۔ دنیا میں جاری ایران امریکہ جنگ نے اس وقت پوری دنیا کو سنگین مشکلات و مصائب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کہیں مہنگائی کا طوفان، کہیں تیل کا بحران، کہیں روزگار کا خاتمہ، کہیں مذہبی تصادم کے خدشات، کہیں پہلے سے بڑھتی غربت و افلاس، کہیں معصوم بچوں کی جدائی کا واویلا، تو کہیں والدین بہن بھائی و دیگر عزیز و اقارب کے بچھڑنے کے غم۔
ان سب و دیگر متعدد مشکلات، غم و پریشانیوں کا سبب صرف اور صرف ایک ناجائز ریاست اور اس کے حواری کا جنگی جنون، مذہبی منافرت پوری دنیا کا کنٹرول حاصل کرنا اپنے اسلحے و جنگی ساز و سامان کی فروخت اپنے من گھڑت ورلڈ آرڈر کے دنیا بھر میں نفاز، دنیا بھر میں شیطان کے تسلط اور اس کے پیرو کاروں کی تنظیم ایلومیناتی کی حکومت کے قیام، وقت سے پہلے اپنے خودساختہ دجال کو اپنا مسیحا بنا کر دنیا کو گمراہ کرنا جیسے ناپاک عزائم و خواہشات کی تکمیل ہے۔
اس بے مقصد جنگ شروع کرنے پر ان کی سوچوں کے بر خلاف ان کا واسطہ ایک ملک سے نہیں ایک ایسی قوم سے پڑ گیا جس کا بچہ بچہ شہادت کے جزبہ سے سرشار موت کو خوشی سے گلے لگانے والے مرد، خواتین، بزرگ، بچے، حتہ کہ معزور افراد بھی اور ان سب کے علاؤہ ان کی افواج کے ادنا سپاہیوں سمیت اعلی ترین سول و فوجی و مذہبی قیادت تک اپنے وطن اور مذہب کے دفاع میں ایسی سیسہ پلائی کی دیوار بن کر سامنے آئی کہ دشمن حواس باختہ ہو گیا اور اس کی حالت ایک پاگل و دیوانے جیسی ہو گئی اس کے دوستوں نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا الٹا ارباب اختیار کو آج تک ان کی ہر ناجائز حرکت کو بھی جائز سمجھ کر ان کی پشت پناہی کرتے رہے وہ بھی کھل کھلا ان کی جہالت و گمراہی کے معترف ہو کر ان کے ہی خلاف بولنا شروع ہو گئے اور اعلانیہ ان سے لاتعلقی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس سے پہلے کے جنگی جنون میں بھپرے یہ سانڈھ دنیا بھر میں آگ لگا کر تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز کر دیتے یا ایٹم بم سے انسانیت کو برباد کرتے پاکستان کے مرد آہن سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انتہائی مدبرانہ، پیشہ ورانہ اور حکمت سے بھرپور زہانت اور خداداد صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے چند ہم خیال ممالک کے سربراہان کی مدد سے خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے اس اللّٰہ کے شیر نے اس بھڑکتی ہوئی آگ کو ایسا ٹھنڈا کیا کہ دنیا کو ایک بھیانک ترین تباہی سے بھی بچا لیا اور تمام متعلقہ فریقوں کو جنہوں نے دہائیوں سے ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہ کیا تھا وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا کر ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھنے پر مجبور ہو گئے اور جنگ روک کر مذاکرات پر مجبور ہو گئے۔
اس عمل نے دنیا بھر کو یہ بھی باور کرا دیا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتی ہر جنگ کا آخری نتیجہ مزاکرات یا ثالثی سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی قیادت میں اور سعودی عرب، ترکی، و دیگر مقتدر سربراہان مملکت کی اس ثالثی کمیٹی کے اقدامات و کاوشوں کو ساری دنیا میں جو عزت و پزیرائی ملی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے مستقبل کے لیے بھی دنیا کے متنازعہ معاملات کے حل کے لیے مکمل اختیارات دیے جائیں اور اسی کمیٹی کے زریعے نہ صرف فلسطین کی آزادی کی راہیں ہموار کی جائیں بلکہ، کشمیر، برما، چیچنیا، روس و یوکرین سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے آپسی تنازعات کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پہ بٹھا کر اختلافات کا خاتمہ کریں اور دنیا کو امن کا گہوارا بنائیں۔
