بہت بڑا سوال۔۔۔۔
فیلڈ مارشل آخر دو دن سے ایران کیوں رکے ہیں؟
اصل کہانی یہ ہے
اپنے گزشتہ کالم میں اس وقت کے سب سے بڑے سوال کہ (فیلڈ مارشل تہران کیوں گئے؟)
حل کرنے کی کوشش کی تھی، تمام احباب نے پسند کیا۔
اس دوران ایک دوست نے سوال کیا کہ فیلڈ مارشل گزشتہ دنوں سے ایران میں کیوں ہیں؟ آخر ایسا کیا معاملہ درپیش ہے کہ انہیں اپنا دورہ طویل کرنا پڑا؟
اس سوال کا اجمالی جواب تو گزشتہ کالم میں دے دیا تھا، لیکن تازہ ترین معلومات کو شامل کرکے اس پر الگ سے ایک مفصل تحریر لکھ رہا ہوں۔
جیسا کہ گزشتہ پوسٹ میں ذکر کیا تھا، فیلڈ مارشل کا دورۂ تہران جہاں ایک طرف امن مذاکرات میں فائنل ڈرافٹ کی تیاری پر مشاورت کرنا ہے، وہیں دوسرا مقصد پاسداران اور سیاستدانوں کے درمیان پیدا ہونے والے غیر اعلانیہ اختلاف اور دوری کو دور کرکے انہیں یکجہت مؤقف پر متفق کرنا ہے۔
پاسداران 1979ء میں آیت اللہ خمینی کے ایک حکم نامے کے ذریعے قائم ہوئی۔
قیام سے پہلے، انقلاب کے دوران مختلف شہروں میں اسلامی کمیٹیاں اور شہری ملیشیاں (پیرا ملٹری گروپس) فعال تھیں جو انقلاب کی حفاظت کر رہی تھیں۔ انہیں ایک منظم فورس میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں۔ ابتدائی طور پر یہ فورس دولتِ موقت (مہدی بازرگان کی قیادت میں) کے زیر نگرانی تھی، لیکن جلد ہی اسے شورائے انقلاب کے براہِ راست کنٹرول میں لا دیا گیا تاکہ یہ مکمل طور پر انقلابی قیادت کے تابع رہے۔
پاسداران شروع سے مزاحمتی مزاج رکھتی ہے اور زورِ بازو سے فیصلہ کرنے اور منوانے پر یقین رکھتی ہے۔
پاسداران کو انقلاب کے “محافظ” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔
پرانی فوج پر شک کیا جاتا تھا، اس لیے پاسداران کو ایک متوازی فورس کے طور پر قائم کیا گیا جو براہِ راست سپریم لیڈر (رہبر) کے ماتحت ہو۔
ایران-عراق جنگ کے دوران پاسداران ایک سادہ ملیشیا سے ایک مکمل فوجی دستے میں تبدیل ہو گئی، جس میں زمینی، فضائی، بحری اور انٹیلی جنس برانچز شامل ہوئیں۔ اس طرح یہ ایک طاقتور اور مضبوط عسکری ادارہ بن گیا۔
پاسداران براہِ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہے، نہ کہ منتخب حکومت یا صدر کے۔ اس کی اپنی انٹیلی جنس، معاشی کمپنیاں (جیسے خاتم الانبیاء) اور سیاسی اثر و رسوخ ہے۔
ایک خاص جنگی حکمت عملی کے تحت پاسدارانِ انقلاب اکتیس بریگیڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بالفرض مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو بھی سینٹرل کمانڈ کے ٹوٹنے سے مزاحمت ختم نہ ہونے پائے۔
اس لیے پاسداران کے ہر صوبے میں اپنا اپنا خودمختار اور مکمل بااختیار کمانڈر مقرر کیا گیا۔
یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ جنگ میں سینٹرل کمانڈ، بالخصوص سپریم کمانڈر کے گزر جانے کے باوجود ایران نے پہلے سے طے شدہ عزائم پر عمل جاری رکھا۔
پاسداران مسلسل پہلے سے طے شدہ پالیسی کے تحت حملے کرتی رہی، جبکہ سیاسی حکومت عرب ریاستوں پر حملوں کے حق میں نہیں تھی، جس کا ثبوت ایرانی صدر اور عباس عراقچی کی طرف سے بار بار عرب ریاستوں سے معذرت سے ظاہر ہے۔
مسلسل عرب ریاستوں پر، بالخصوص، حملے نہ رکنے یا دیگر ایسے عوامل کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاسداران کے کمانڈروں کا آپس میں اور سیاسی حکومت سے رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ بوجہ ایں کہ ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے موبائل و دیگر مواصلاتی رابطوں سے اجتناب کیا جا رہا تھا۔
چنانچہ سیاسی حکومت اور پاسداران کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو گیا۔
اس دوران جب سپریم کمانڈر کی ”شہادت“ ہوئی تو پارلیمان اور پاسداران کے درمیان پیدا شدہ یہ مواصلاتی انقطاع اختلاف کی صورت اختیار کر گیا، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی کی قوت بہت متاثر ہوئی۔
پاسداران ہر صورت سپریم کمانڈر کا بدلہ چاہتی تھی۔ سپریم کمانڈر کے بعد وہ سمجھنے لگے تھے کہ مزاحمت، جنگ اور ”لڑو، مارو یا مار دو“ ہی اب مشن ہے۔ چنانچہ وہ کسی بھی سیاسی کوشش، مذاکرات یا پیشکش کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ آبنائے ہرمز ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے، خلیج فارس میں موجود تمام امریکی بحری جہازوں اور بحری بیڑوں کو سمندر برد کر دیا جائے۔
اسی تشویش اور اختلاف کا اظہار اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے کیا گیا۔ چنانچہ فیلڈ مارشل نے ایران جا کر پاسداران کمانڈرز سے بات چیت کرکے پارلیمان اور پاسداران کو متحد کرنے کا ارادہ کیا۔
اس دوران امریکہ کی جانب سے بھی ایران کی منتشر قوتِ فیصلہ کی نشاندہی کی گئی۔
چنانچہ فیلڈ مارشل نے ٹرمپ کو قائل بلکہ پابند کیا کہ امریکہ خود یا اسرائیل ملاقاتوں کے دوران کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے۔
پاکستان نے ایرانی پارلیمان کے نمائندگان اور پاسداران کے کمانڈروں کو ضمانت دی کہ ہمیں بات چیت کا موقع دیں، اس دوران ہرگز امریکہ یا اسرائیل حملہ نہیں کریں گے۔
نمائندگانِ پارلیمان اور پاسداران کے کمانڈرز نے پاکستانی ضمانت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
چونکہ فیلڈ مارشل جنگی امور کے ماہر ہیں، جبکہ مصالحت کا ہنر بھی جانتے ہیں، اور ان کی پشت پر پوری پاکستانی قوم اور مسلم اقوامِ عالم کی تائید اور اعتماد موجود ہے، اس لیے فیلڈ مارشل نے خود ایران جانا مناسب سمجھا، تاکہ جنگی امور کے ماہرین کے ساتھ روایتی، پیشہ ورانہ اور مصالحتی بیٹھک کی جا سکے۔
چنانچہ فیلڈ مارشل غیر اعلانیہ اور اچانک دورۂ ایران کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ ان کا یہ اقدام حیران کن اور تاریخ ساز تھا۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جاری جنگ میں تیسری ایٹمی طاقت کی فوج کا سربراہ، فیلڈ مارشل، میدان میں اترا۔
فیلڈ مارشل نے گزشتہ روز چھ گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے متعدد کمانڈرز شامل ہوئے، اور سب نے مل کر ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا۔
فیلڈ مارشل نے پاسداران کو بریف کیا، انہیں قائل کیا کہ زمینی حقائق کو سمجھیں اور ایسے فیصلے کریں جن پر عملدرآمد ممکن ہو۔ اس دوران سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صاحب سے بھی بالواسطہ رابطہ کیا گیا۔ وہ غائبانہ طور پر اس سارے پراسیس کا حصہ رہے۔
چنانچہ فیلڈ مارشل کی دو دن کی کوششوں نے پارلیمان اور پاسداران کے درمیان غیر اعلانیہ اختلافی خلیج کو کافی حد تک بھر دیا ہے۔ اس طرح ایرانی فیصلہ سازی کی قوت متحد اور مضبوط ہو چکی ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ فیلڈ مارشل کے علاوہ پارلیمان اور پاسداران کے درمیان یہ خلیج وزیراعظم یا کوئی اور نہیں پاٹ سکتا تھا، کیونکہ جرنیلوں کو جرنیل ہی سمجھا سکتا ہے۔
احبابِ گرامی!
تازہ ترین صورتحال کے مطابق لبنان-اسرائیل جنگ بندی ہو چکی ہے۔ یہ مذاکرات کے دوران ایران کی طرف سے بنیادی شرط تھی۔
👈 پاکستان نےایران میں بیٹھ کر لبنان اور اسراءلل کے درمیان جنگ بندی کروائی ہے۔ آپ کیلیے یہ شاٸد حیران کن ہو لیکن حقاٸق پر دقیق نگاہ ڈالیں آپ کو جانتے ہیں حزب ۔اللہ کو ایران کنٹرول کرتا ہے اور اسراءل کو امریکہ۔
آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ ای ران اپنی پراکسییز کے بغیر جنگ بندی پہ رضا مند نہیں۔پاکستان نے بطور ثالث امریکہ کے زریعے اسراءل کو قائل کیا اور ایران کے ذریعے حزب اللہ کو۔ اور یہ کوشش اتنی تگڑی تھی پاکستان لبان اسراءل جنگ بندی شرط پوری کروانے میں کامیاب رہا ہے، جس کا اظہار ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان الفاظ میں کیا:
”لبنان جنگ بندی میں ثالثی پر ریاستِ پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے شکر گزار ہیں۔“
چنانچہ یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے لیے اپنے اپنے طور پر نقطۂ اتفاق تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کی گواہی ایک طرف ٹرمپ کے نرم پڑتے بیانات اور انٹرویوز ہیں، تو دوسری طرف ایران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے پاکستانی جہاز سمیت چار بحری جہازوں کا امریکی ناکہ بندی لائن عبور کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معاملات حل کے قریب ہیں۔
یہ بہت خوش آئند اور امید افزا صورتحال ہے۔
ادھر اسلام آباد میں ممکنہ دورے کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی ہے۔
سرینا ہوٹل کو دوبارہ سجایا جا رہا ہے، جبکہ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں کو بند کروایا جا رہا ہے۔
👈 ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے؟
ا۔ ہمیں پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لیے پاکستان موافق بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ریاست مخالف بیانیے کی مذمت کرنی چاہیے، بالخصوص لونڈے لپاڑوں اور ملک دشمن بیانہ رکھنے والے یوٹیوبرز سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے۔
اا۔ ہمیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ حکومت کس کی ہے، بلکہ اس وقت صرف پاکستانیت کو مقدم رکھنا چاہیے۔
کچھ لوگ پاکستان کے بیانیہ کےساتھ اس لیے نہیں کھڑے ہورہے کہ ایسا کرنے سے حکمران جماعت کی تاٸید یا تعریف ہوجاۓ گی، پاکستان کے وقار کو مقدم رکھیں اتنی چھوٹی سوچ نہ سوچیں۔
ااا۔ اپنی دعاؤں میں امن معاہدے کی کامیابی، اس کے بہترین نتائج اور پوری دنیا میں امن کے لیے دعا کرنی چاہیے
۔
اااا۔ امید کا دامن تھامے رہیں، عالمی حالات بہتر ہوتے ہی، ان شاء اللہ ملکی حالات بھی بہتر ہونا شروع ہوجاٸیں گے۔ کیونکہ پختہ امید ہے امن معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان پر انعامات کی برسات شروع ہوجاۓگی۔ان شاء اللہ
پاکستان کو اس امن معاہدہ سے کیا کچھ حاصل ہوسکتا، اگلا کالم میں مفصل عرض کرونگا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
