


کھاریاں(شاہد بیگ سے)انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر مسلح حملہ، پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک
اتوار کی صبح جہلم میں معروف مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر ایک نامعلوم مسلح شخص نے حملہ کر دیا، جسے پولیس نے بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور مارا گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اتوار، 19 اپریل کی صبح تقریباً 10 بجکر 10 منٹ پر پیش آیا۔ ایک نامعلوم مسلح شخص نے اکیڈمی کے سامنے سڑک کی دوسری جانب گرین بیلٹ میں پوزیشن سنبھالی اور اچانک اکیڈمی کے مرکزی دروازے اور وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کی بہادری اور جوابی کارروائی
حملے کے وقت وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک جوان نے بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر حملہ آور کو مصروف رکھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسی دوران پولیس کی اضافی نفری نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
زخمی اہلکار: زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
حملہ آور کی شناخت: ہلاک ہونے والے شخص کے پاس سے کوئی شناختی کارڈ یا دستاویز برآمد نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے تاحال اس کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔
تحقیقات اور سیکیورٹی کی صورتحال
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ:
حملہ آور کے پسِ پردہ محرکات کا پتا لگایا جا رہا ہے۔
سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔
شہر بھر، بالخصوص اکیڈمی کے اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
“پولیس کی بر وقت کارروائی نے ایک بڑے جانی نقصان اور ممکنہ سانحے کو ٹال دیا ہے۔ ہم اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں۔” — پولیس ترجمان
اس واقعے کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم انتظامیہ نے عوام کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
