

حیدرآباد(بیورو رپورٹ) سندھ کے مظلوم عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی سماجی تنظیم جرنلسٹس رائٹرز سول سوسائٹی فار ٹرتھ پیس اینڈ جسٹس مرکز کی اپیل پر سندھ میں کاروکاری کے قبیح عمل اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا جس میں خالدہ چانڈیو شمائلہ چانڈیو اور فہمیدہ لغاری کے قافلوں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا اس موقع پر جی ڈبلیو سی کے مرکزی رہنمائوں ظفر ہکڑو شاہدہ راجپر فہیم ببر ضلعی صدر نیاز وگھیو نائب صدر الطاف کوٹی امداد سیلرو ن
جنرل سیکریٹری غلام سرور ہنگورو اورنگزیب بھٹو کے علاوہ عوامی تحریک کے نور محمد کاتیار سندھ صوفی فورم کے رہنماء ڈاکٹر بدر چنہ مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماء رفیق مگسی اور دیگر نے خطاب کیا حیدرآباد پریس کلب کے سیکریٹری اشوک شرما انور چانڈیو اعجاز لغاری عقیل برڑو فیروز ببر اللہ بخش کنبھر ودیگر بھی موجود تھے جبکہ تھیٹر کے فروغ کیلئے سرگرم ثقافتی تنظیم اسٹیپس کی جانب سے کاروکاری کے عنوان پر اسٹریٹ تھیٹر عقیل قریشی کی ہدایات میں پیش کیا گیا جس میں کاروکاری کی بھینٹ چڑھائی جانے مظلوم لڑکی کا کردار شہر کی معروف اداکارہ نایاب سحر اس کے مظلوم باپ کا کردار سینئر اداکار یاسین چن نے اورظالم وڈیرے کا کردار عقیل قریشی نے اور ان کے ظالم بیٹے کا کردار سینئر فنکار عامر پرھیاڑ نے نہایت عمدگی سے ادا کئے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ رہنمائوں نے کہا کہ سندھ میں کاروکاری سمیت دیگر الزامات کے تحت خواتین کے قتل کے واقعات جاری ہیں حال ہی میں ٹنڈو مستی میں خالدہ چانڈیو ہالا میں شمائلہ چانڈیو کو کاری قرار دیکر قتل کر دیا گیا دوسری جانب میر پور خاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کو اس قدر ہراساں کیا گیا کہ اس نے تنگ آکر خود کشی کرلی ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عدالتوں کی طرف سے جرگوں پر پابندی عائد ہے سندھ حکومت نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے متعدد قوانین پاس کئے ہوئے ہیں مگر ان پر عملدرآمد بالکل نہیں کیا جاتا اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے تعلیمی اداروں میں حکومت کی جانب سے اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کے قیام کا حکم نامہ جاری شدہ ہے لیکن کسی بھی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں فعال نہیں ہیں جس کے باعث اس نوعیت کے واقعات پیش آنا معمول بنا ہوا ہے کیا اسباب ہیں کہ جرگوں پر پابندی کے باوجود وڈیرہ شاہی جرگہ کرکے معصوم لڑکیوں کی موت کے پروانے جاری کر رہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں کاروکاری کی گھنائونی رسم کا خاتمہ کر کے تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے ذریعے لڑکیوں کو خودکشیوں پر مجبور ہو نے سے بچایا جائے اور خالدہ چانڈیو شمائلہ چانڈیو اور فہمیدہ لغاری کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں سخت سے سخت سزادی جائے اور اس ضمن میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے
