
*ٹک ٹاکر مائیں خود ساختہ گھریلو آرٹسٹس/ڈانسرز*
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلمان مائیں، بہنیں اور بیٹیاں انتہائی تیزی سے گمراہی، بے شرمی، لاپرواہی، بے راہ روی اور جہالت کی دلدل میں تیزی سے دھنستی چلی جا رہی ہیں۔
وہ مائیں جو کہ حقیقی درسگاہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور اپنی اولاد کی تربیت انتہائی دلجوئی، محبت اور محنت سے کیا کرتی تھیں ہمارے معاشرے میں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ موبائل سے آنے والی نسلوں کی تباہی کا آغاز ماؤں کی سرپرستی میں نوزائیدہ بچوں سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
یہ بات سائنس سے بھی ثابت ہو چکی ہے کہ حمل کے ساتویں مہینے میں ہی بچہ باہر کی دنیا سے آشنائی حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے، جو کہ مائیں بیڈ ریسٹ کے دوران موبائل پہ دیکھتی رہتی ہیں۔ پھر جو آوازیں وہ سنتا ہے پیدا ہونے کے بعد لاشعوری طور پر انہیں آوازوں کا متلاشی ہوتا ہے جو اسے ماں کے پیٹ سے ہی سنائی دیتی ہیں اور پھر چند دن گزرتے ہی ان آوازوں کا ماخذ موبائل اس کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے پہلے کارٹونز، پھر گیمز سے اس کی تربیت کا آغاز ہوتا ہے ماؤں کی توجہ صرف بچے کے پیمپرز بدلنے یا دودھ (عموماً ڈاکٹر کا ایڈوانس کردہ پاؤڈر ملک جسے ڈاکٹرز بچے کی بہتر صحت کے بہانے کمپنیز کی مارکیٹنگ اور اپنے کمیشن کے لیے لازم قرار دے کر بچے کو قدرت کے پیدا کردہ دودھ سے محروم کر دیتے ہیں) پلانے، اچھے کپڑے جو گارمنٹس انڈسٹری کے انتہائی مہنگے داموں تیار کر کے فروخت کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی طرح طرح کی کیمیکل زدہ مصنوعات کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارا بچہ بہت نفاست سے پل رہا ہے اور بہت طاقتور جسم کا مالک ہو گا۔ چند دہائیوں پہلے جب یہ سہولیات ایجاد بھی نہیں ہوئی تھیں ان ہزاروں سالوں میں پیدا ہونے والے بچے کیسے پالے جاتے تھے؟
بچے کو صاف ستھرا کیا بازاری دودھ و دیگر کیمیائی خوراک دی اور ماں اور بچہ سارا دن موبائل پہ ٹک ٹاک، فیس بک، گیمز، کارٹون اور سوشل میڈیا کی دیگر سہولیات انجوائے کرتے ہوئے دن رات مشقت کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ کہ ہمہ وقت موبائل پہ تصاویر اور ویڈیو بنانے کے نت نئے آئیڈیا سوچتے رہنا پھر انہیں اپلوڈ کر کے لائکس اور کمنٹس کی فکر میں لگے رہنا اور اب مختلف گیمز اور لائیو ویڈیو شئیرنگ کے زریعے پیسے کمانے کو ہی ذریعہ معاش بھی بنا لیا گیا ہے۔
ماں باپ اپنے اپنے موبائل کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور بچے بچیاں بند کمروں میں کیا گل کھلا رہے ہیں اس سے دونوں کی مکمل لاعلمی اور ایک دن اچانک بیٹا یا بیٹی گھر سے غائب یا گھرستی سے ناآشنائی کے باعث بچوں کے گلے میں طلاق کا طوق سج جاتا ہے۔ یا وہ بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں کوئی آئس کے نشے کا شکار تو کوئی ہم جنس پرستی میں مبتلا تو کوئی بلیک میلنگ سے تنگ اور اکثر عزتیں خراب کروا کر اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کے جی رہے ہوتے ہیں۔ اور ان ماؤں کے ہاتھ پچھتاوے کے علاؤہ کچھ باقی نہیں رہتا۔
جبکہ اس کے برعکس پہلے زمانے کی مائیں بچوں کی افزائش، تعلیم، تربیت پر انتہائی خصوصی توجہ رکھتی تھیں بچے کی زبان سے سب سے پہلے “اللّٰہ تعالیٰ” کا نام مبارک سننے کی خوشی دیدنی ہوتی تھی پھر اسے گھر کا ہر فرد لاالہ، الااللہ، اور اللّٰہ ھو سکھانے کی کوششیں جاری رہتی تھیں پہلی تعلیم کا آغاز قائدے کی صورت میں ہوتا تھا یا گھر کے بزرگوں یا گلی محلے کی کسی خاتون یا مسجد کے مدارس میں بچوں کو بھیجا جاتا تھا اسکول کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں ہوتی تھی کہ پانچویں سال داخل کرا دیں گے جب تک اکثر بچے قرآن مجید مکمل بھی کر چکے ہوتے یا کم از کم اپنے دین کے بارے میں بہت کچھ سیکھ چکے ہوتے تھے۔
دور حاضر میں بچے تو کیا بڑے بھی کلمہ بھی ٹھیک سے ادا نہیں کر پاتے (لیکن اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں) دین سے اس قدر دوری پائی جاتی ہے کہ اکثر لوگوں کو خود کو پاک کرنے کے درست طریقے بھی معلوم نہیں ہوتے۔
پہلے دور میں مائیں بچوں کو دودھ بھی اکثر باوضو پلایا کرتی تھیں پہلی تعلیم دینی پھر دنیاوی پر توجہ دی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ ان کے بچے جوان ہو کر عالم دین، مبلغ، اللّٰہ تعالیٰ کے مقرب، ولی، مجاہد، دین کے محافظ اور معاشرے میں ایک معزز مرتبہ و مقام حاصل کرتے تھے، عوث پاک رحمۃاللہ علیہ پچپن میں ہی 6 سپاروں کے معجزانہ حافظ اسی لیے تھے کہ ان کی والدہ محترمہ دوران حمل بھی ہر وقت تلاوت قرآن پاک میں مشغول رہتی تھیں۔
پہلے زمانے میں چھوٹے بچے جب بیمار ہوتے تھے خصوصاً دست موشن جیسے عام امراض کا علاج گھر کی یا گلی محلے کی بزرگ خواتین، دائیاں دیسی ٹوٹکوں، مالش وغیرہ سے لمحوں میں بچے کی تکلیف رفع کر دیتی تھی جبکہ آج کل ڈاکٹروں پہ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے باوجود کئیں کئیں دن بچہ تکلیف و کرب میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ ڈاکٹر بچے کا علاج نہیں کرتے بلکہ اپنی کمائی کے لیے علاج کو طویل مدت تک جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ سب ہماری دین سے دوری اور اپنے بزرگوں کی تعلیمات اور ہدایات و رہنمائی کو پس پشت ڈال کر دور جدید کے رنگ میں خود کو رنگنے کی کاوشوں کے باعث ہے جس سے دنیاوی پریشانیوں مصائب کے ساتھ ساتھ آخرت کی سختیاں بھی اپنے لیے چن لی ہیں۔
شائید یہی وہ عوامل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کی شب دوزخ میں زیادہ تعداد عورتوں کی نظر آئی تھی۔
اسد الحق قریشی
چیئرمین
ابابیل خیرالبشر موومنٹ
