
تحریر طاہرمغل
بدلتی دنیا اور پاکستانی عوام
آج جب ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو دیکھتے ہیں تو یہ ایک عجیب سا منظر ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ لوگ براعظموں کو محض ایک کلک میں عبور کر لیتے ہیں، خلائی سیاحت کی باتیں عام ہو گئی ہیں، اور مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ لیکن دوسری طرف، یہی جدید دنیا اپنے ساتھ نئے مسائل کا بھی انبار لے کر آئی ہے۔ مہنگائی نے قومیں کھا لی ہیں، سیاسی عدم استحکام عام ہو گیا ہے، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے انسان کو اس کے اپنے گھر میں بے گھر کر دیا ہے۔ اس عالمی منظر نامے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے عوام کی مشکلات کچھ زیادہ ہی گہری اور پیچیدہ ہیں۔دنیا کے بدلتے رنگ
موجودہ عالمی منظر نامہ دو متضاد تصاویر کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک جانب ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشتوں کو ڈیجیٹل انقلاب، مصنوعی ذہانت، اور مصنوعاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے مقامات پر لے جا رہے ہیں۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین جیسے طاقتور بلاکس ‘چپ وار’ اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ لیکن دوسری طرف، روس یوکرین جنگ، غزہ میں جاری کشیدگی، اور افریقہ میں خوراک کا بحران جیسے مسائل بتاتے ہیں کہ انسانیت ابھی تک پرانی عادتوں، یعنی جنگ، استحصال اور عدم مساوات سے نجات نہیں پا سکی۔ غریب ممالک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط نے ان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ یہ وہ عالمی پس منظر ہے جس میں پاکستانی عوام اپنی روزمرہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
پاکستانی عوام آزمائشوں کی طویل صف پاکستان جو کبھی جنوبی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کہلاتا تھا، آج مشکلات کا ایک مرکز بن چکا ہے۔ یہاں کی عوام جن مشکلات سے دوچار ہیں، وہ محض معاشی نہیں بلکہ معاشرتی، نفسیاتی اور جغرافیائی نوعیت کی بھی ہیں۔گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں افراط زر نے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل، خوردنی اشیاء جیسے آٹا، دال، چینی اور سبزیوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ گھرانوں کو ایک وقت کی روٹی کے لیے بھی دوڑنا پڑ رہا ہے۔ نوجوان پیشہ ور افراد کا کہنا ہے کہ تنخواہیں مہینے کے پندرہ دن بھی نہیں چل پاتیں۔ یہ مہنگائی کسی ریاضی کا فارمولا نہیں بلکہ ایک ماں کی آنکھوں میں آنسو ہے، جو بچوں کو کھانا کھلاتے ہوئے خود بھوکے سو جاتی ہے۔پاکستان کی سیاست نے ایک ایسا موڑ لے لیا ہے کہ عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا مستقبل کون سنبھالے گا۔ بدلتے حکومتی ڈھانچے، سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں، اور مضبوط عوامی حمایت یافتہ رہنماؤں کو بے دخل کرنے کے مناظر نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ جب ایک عام پاکستانی ٹیلی ویژن پر دیکھتا ہے کہ اس کے منتخب نمائندے آپس میں لڑ رہے ہیں یا اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں، تو اس کا اعتماد جاتا رہتا ہے۔ شہریوں کو لگتا ہے کہ ان کی مشکلات کے حل کی بجائے سیاست دانوں کو اقتدار کی دوڑ میں لگا رکھا ہے۔2022 کے تاریخی سیلاب نے پاکستان کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ لاکھوں گھر بہہ گئے، کروڑوں بے گھر ہوئے، اور زرعی زمینیں برباد ہو گئیں۔ مگر دنیا کے سامنے جب پاکستان نے اپنی تباہی کی داستان بیان کی تو اسے وہ توجہ نہیں ملی جو اس صورتِ حال کو درکار تھی۔ یہ عوام کے لیے ایک اور تلخ حقیقت ہے کہ وہ عالمی حدت میں کم ترین کردار رکھتے ہوئے اس کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔ آج بھی سندھ اور بلوچستان کے دیہات تباہی کے نشانات سمیٹے ہوئے ہیں، اور عوام حکومت سے امداد کی بجائے تھوڑی سی ہمدردی کے طلب گار ہیں پاکستان دراصل پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے، لیکن اسے بڑی نظراندازی کا شکار رہتا ہے۔ بجلی و گیس کے شارٹ فال نے صنعتوں کو مفلوج کر دیا ہے اور گھریلو زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ گرمیوں میں بجلی نہ ہو تو لوگ چھتوں پر پڑے رات گزارتے ہیں، اور سردیوں میں گیس کی عدم دستیابی خواتین کو کھانا پکانے سے محروم کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں، لیکن وسائل کی تلاش اور منصوبہ بندی کی شدید کمی ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس پر کم ہی بات ہوتی ہے۔ بے روزگاری قرضے مستقبل کا اندھیرا اور معاشی دباؤ نے پاکستان میں بے خوابی اضطراب اور ڈپریشن کو عام بیماریاں بنا دیا ہے۔ نوجوان نسل جو کبھی خواب دیکھتی تھی آج محض زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ شادیوں میں تاخیر، خاندانوں کا ٹوٹنا، اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس پوشیدہ بحران کی دلفریب داستانیں ہیں۔ بے شک مشکلات بہت ہیں، لیکن پاکستانی عوام کی لچک اور جینے کی طاقت قابل تحسین ہے۔ گلیوں میں نکل کر روشنی مانگنے والے لوگ، پھر بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ چھوٹے تاجر، محنت کش، اور رکشہ چلانے والے نہ جانے کیسے حالات سے سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی توجہ عوام کی حقیقی مشکلات کی جانب موڑے، شفاف فیصلے کرے، اور عالمی سطح پر پاکستان کے مسائل کو موثر انداز میں اٹھائے۔آج دنیا تیزی سے ایک دوسرے سے جڑ رہی ہے، اور پاکستان کی مشکلات کو عالمی امداد اور مشترکہ کوششوں سے حل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی اندرونی کمزوریوں کو تسلیم کریں، اور پھر ہمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں۔ تبھی پاکستانی عوام کی آزمائشیں ان کی کامیابی ہے۔
