
موجودہ ملکی حالات پاکستانی عوام کے لیے عذاب یا آزمائش
پاکستانی قوم اس وقت جن مصائب، مصیبتوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہے آدھی سے زیادہ قوم غربت و افلاس کی چکی میں پس چکی ہے اپنی ہی اولاد کو قتل کر کے خودکشی کرنے کے واقعات معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اسٹریٹ کرائم، چوری، ڈکیتی، سرعام قتل و غارت گری، غنڈہ گردی، اغوا برائے تاوان، خصوصاً ناپ تول میں کمی، ناجائز منافع خوری، زخیرہ اندوزی، سب سے بڑھ کر حرام و حلال کی تمیز کو تو سرے سے ہماری قوم نے ترک کر دیا ہے، جس کی پکڑ آخرت میں بہت ہی سخت ہو گی، اور اس کے علاؤہ دیگر سنگین جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
تعلیم یافتہ طبقہ ملک چھوڑنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے، سرمایہ دار اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہے، ملکی سرمایہ کاری محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہے، نہ کاروبار محفوظ نہ روزگار کے مواقع مل رہے ہیں اگر مل بھی جائیں تو آمدنی اتنی کم کہ گزراوقات بھی ناممکن محسوس ہوتا ہے۔
سوچنا یہ ہے کہ ان سب اسباب کی وجہ کیا ہے اس کا ایک الزام تو حکمرانوں کی عدم دلچسپی گردانی جاتی ہے یا ایک فقرہ زباں زد عام ہے کہ جیسے اعمال ویسے حکمران، تو کیا ہم عوام اپنے اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں یا ہم اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے کسی آزمائش کا شکار ہیں۔
عزاب اور آزمائش کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہوں فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔
آج کھیت جل جانا، سیلاب آ جانا، کاروبار ناکام ہو جانا یہ سب عام اتفاق و حادثہ مان کر لوگ ٹال دیتے ہیں لیکن سورہ “ن” میں باغ والوں کا باغ جل گیا تو اللہ نے کہا {كَذَ ٰلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡـَٔاخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُوا۟ یَعۡلَمُونَ} [Surah Al-Qalam: 33]
کہ *”کاش کہ انہیں پتہ ہوتا کہ عذاب ایسے ہی ہوتا ہے اور جو آخرت میں عذاب ملنے والا ہے وہ تو انتہائی سخت ہے.
دراصل عذاب کوئی چند منتخب چیزیں نہیں ہیں کہ ہم کہہ دیں یہ دیکھو عذاب آ گیا. بلکہ کوئی بھی چیز کسی کے بھی حق میں عذاب ثابت ہو سکتی ہے. کاش کہ لوگ اس بات کو سمجھ لیں. ہر وہ چیز جو انسان کو بے بس و لاچار کر دے وہ عذاب ہے. پوری ترقی یافتہ دنیا ایک وائرس کے آگے بے بس و لاچار ہو گئی تو یہ وایرس ہی عذاب ہو گیا. کاش کہ لوگ سمجھتے. پانی کا ریلا انسان کی ساری ترقیوں کو بہا لے جائے تو وہی ریلا عذاب ہے. دراصل کبھی کبھی اللہ تعالیٰ بندوں کو اتنا بے بس کر دینا چاہتا ہے کہ وہ جان لیں کہ وہ اور ان کی ترقیاں کتنی بودی ہیں جن پر وہ بھروسہ کئے بیٹھے ہیں اور اپنے اصل مقصد سے غافل ہیں. اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا *{وَلَنُذِیقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ یَرۡجِعُونَ}*
[Surah As-Sajdah: 21]
کہ ہم بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب سے لوگوں کو دوچار کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ بے بس و لاچار ہو کر آخر کو میری طرف پلٹ آئیں. اور بڑا عذاب وہی ہے جو تحریر کے شروع میں ذکر کیا گیا. باغ والوں کا باغ جلا تو ان اللہ والوں کو فوراً احساس ہو گیا کہ یہ فقط ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ ہماری بری نیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے اور انہوں نے اپنے مقدر کو کوسنے اور اللہ کو برا بھلا کہنے کے بجائے فوراً اللہ سے توبہ کی “کہ ہمارا رب ظلم و زیادتی سے پاک ہے ہم ہی برے تھے. اور پھر سارے بھائی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے، انہوں نے کہا، ہاے ہمارا ناس ہو ہم نے تو حد ہی کر دی تھی، چلو چھوڑو ہو سکتا ہے اللہ ہمیں اس باغ سے بھی بہتر باغ عطاء فرما دے، ہم تو اپنے رب کی طرف پلٹ رہے ہیں. ” (سورہ نون ٢٩-٣٢).
یہ عذاب بھی اللہ کی نعمت ہوتے ہیں کہ وہ انسان کو اللہ کی یاد دلاتے ہیں. انتہائی بدقسمت ہیں وہ جو عذاب سے دوچار ہو کر بھی اللہ سے اپنے جرائم کی معافی نہ مانگ لیں اور جرائم کو ترک نہ کر دیں. جس نے عذاب کے مقصد کو سمجھا اس کے لئے عذاب نعمت ہے اور جس نے عذاب کے مقصد کو نہ سمجھا وہ دنیا میں تو خوار ہو ہی رہا آخرت کا بڑا عذاب بھی اس کا مقدر ہو گا. رہی بات بڑے بڑے مجرموں کی اللہ پکڑ کیوں نہیں کرتا؟ تو یہ ہماری نادانی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے. ہم نے آخرت کو دیکھنے سے پہلے ہی کیسے کہہ دیا کہ اللہ بڑے بڑے مجرموں پر مہربان ہے؟ اللہ نے تو قرآن میں ایسے واقعات بھی ذکر کئے ہیں کہ جن میں اہل ایمان دہکتی آگ میں جھونکے جا رہے تھے اور کافر کنارے بیٹھے مومنوں کو آگ میں جھلستا دیکھ کر قہقہے لگا رہے تھے. یعنی آپ صرف دنیا کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے تو آپ اللہ سے ہر ہر قدم پر بدگمان ہو جائیں گے.
لہذا کیا عذاب ہے کیا عذاب نہیں ہے؟ فلانے کو عذاب کیوں نہیں آیا فلانے کو کیوں آ گیا؟ بڑے بڑے مجرم تو رنگ رلیاں کر رہے اور غریب بندوں پر عذاب کیوں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے اور کتنا ہے؟ ان سب سے پہلے اللہ سے توبہ کی جائے. ہر ایک اپنے گریبان میں جھانکے. اگر خود کو مجرم سمجھتا ہو تو اللہ سے توبہ کرے اور اگر خود کا کوئی جرم نظر نہیں آتا تو یاد رکھو یہ مصیبت آپ کے درجات بلند کرے گی. نبی ﷺ نے فرمایا کہ مومن کو ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے. سیلاب اور زلزلے تو بہت بڑی تکلیفیں ہیں. یقیناً صبر کرنے والوں کو اللہ بہترین اجر دینے والا ہے. اللہ کے لئے اللہ والے بنیں. اور ہاں بہت ساری پریشانیاں یقیناً ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہوتی ہیں اس لئے آج نکمے حکمرانوں کو کوسنے دینے کے بجائے عام دنوں میں ان کے گریبان پکڑنا سیکھیں. ووٹ دے کر جیت کی خوشی میں لڈو کھا کر گھر میں چپ کر بیٹھنے کے بجائے مسلسل منتخب نمائندوں کو ان کے وعدے یاد دلاتے رہیں. پورے وارڈ میں ایک فرد کے ساتھ بھی نمایندہ زیادتی کرے تو پورے وارڈ کے لوگ ایک ساتھ آواز اٹھائیں. مطلق حیوان ہونے۔ کے بجائے انسان ہونے کا ثبوت دیجئے. اللہ ہمیں پریشانیوں سے سبق سیکھنے کی توفیق عطاء فرمائے. (آمین یا رب العالمین)۔
اب رہی بات آزمائش کی تو بے شک آللہ اپنے بندوں کو ہی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے لیکن ہر مشکل کے بعد آسانی کی نوید بھی دیتا ہے پہلے ہمیں اس بات پر توجہ دینی ہو گی کہ آیا واقعی ہم اللّٰہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر عمل کرتے ہیں؟
روزانہ رات سونے سے پہلے اپنے صبح جاگنے سے لے کر پورے دن کے اعمال کا جائزہ لیجیے، کتنے فرائض مکمل کیے کتنی سنتوں پر عمل کیا، کتنے احکامات کو درگزر کیا،۔ کتنے صغیرہ گناہ سرزد ہوئے، کتنے کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے، اپنے کسی عمل پہ شرمندگی محسوس کی، کسی گناہ کے سرزد ہونے پہ توبہ استغفار پڑھا، کسی غلطی پہ ندامت کا احساس ہوا، کسی کا حق مارا، کسی کی دل آزاری کی، کیا دنیا کے بجائے اپنی آخرت اور دن میں 70 مرتبہ بلانے والی قبر کے لیے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب کے حضور اپنی آخرت کی نجات کے لیے رجوع کیا؟
اگر آپ نے یہ عمل اپنا روز کا معمول بنا لیا تو خود بخود آپ کو ادراک ہو جائے گا کہ جو آپ پہ بیت رہی ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کا عزاب ہے یا وہ آپ کو آزمائشوں میں مبتلا کر کے اپنی جانب متوجہ کرا رہا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اس کی جانب رجوع کریں اور اس کے بتائے احکامات جو اس نے قرآن مجید فرقان حمید کی صورت میں اور اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے زریعے آپ تک پہنچائے، ان پر عمل پیرا ہوں اور دنیا میں بھٹکنے کے بجائے خود گمراہیوں کی دلدل باہر سے نکال کر اپنی اصلی اخروی۔ زندگی سنوارنے کی تیاری کریں نہ جانے کب توبہ کا دروازہ بند ہو جائے۔
اسد الحق قریشی
چیئرمین
ابابیل خیرالبشر موومنٹ
