
کراچی کے عوام باشعور مظلوم یا تعصب و لسانیت کا شکار
ایک وقت تھا جب کراچی کی پہچان روشنیوں کے شہر اور منی پاکستان کے نام سے کی جاتی تھی، کراچی شہر کو غریب کی ماں سے بھی جانا جاتا تھا اور نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان سے شہری روزگار کے لیے بیرون ملک جانے کے بجائے کراچی کا رخ کرتے تھے اور کراچی شہر اپنے اندر اتنی وسعت رکھتا تھا کہ سب باآسانی اس میں سما بھی جاتے تھے اور خوشحالی کی زندگی گزارتے تھے نہ کوئی تعصب نہ لسانیت نہ فرقہ پرستی سب لوگ مل جل کر اتفاق، پیار محبت سے رہتے تھے آپس میں رشتے داروں کی طرح رہا کرتے تھے۔
گلیوں محلوں میں آدھی رات کے وقت بھی عورتیں بچے بے فکری سے چبوتروں، چوراہوں اور بزرگ حضرات چارپائی اور کرسیوں پر گھنٹوں وقت بتاتے تھے۔ قصہ مختصر کراچی شہر حقیقی معنوں میں امن کا گہوارا تھا۔
پھر اچانک وقت نے پلٹا کھایا کراچی یونیورسٹی کی ایک بس سے بشریٰ نامی لڑکی رش کی وجہ گری اور موقع پر ہی جانبحق ہو گئی جس کے احتجاج نے پورے شہر میں فسادات پھوٹ پڑے ہر طرف جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا وہ دن اور آج کا دن کراچی شہر کو ایسی نظر بد لگی کہ پھر دوبارہ سنبھل نہ سکا آج یہ شہر مکمل طور پر کھنڈرات میں بدل چکا ہے شہری بکھر کر ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں ہر جانب لسانیت، فرقہ پرستی، سیاسی نفرتیں، علاقہ تو دور ایک گھر میں رہنے والے بھی متحد نہیں رہے۔
1990 کی ابتدا میں پہلے کراچی کو لسانی بنیادوں پہ بکھیرا گیا ہجرتیں بھی ہوئیں، بے انتہا قتل و غارتگری تک ہوئی، پھر کراچی کو سیاسی بنیادوں ہے توڑا گیا، اس کے جغرافیہ کو تبدیل کر کے اس کے اضلاع اور ٹاؤنشپ میں ردوبدل کیا گیا، تعلیمی اداروں سرکاری دفاتر میں کرپشن، اقربا پروری کے ساتھ میرٹ کا استحصال ہونے لگ گیا یعنی ہر ممکن طریقے سے کراچی کے شہریوں کو تقسیم در تقسیم کیا گیا ان کے اتحاد کو توڑ مروڑ دیا گیا آپس کی نفرتوں کو خوب بڑھایا گیا۔
آج نوبت یہ ہے کہ کراچی کا ہر شہری مصائب و مشکلات کا شکار ہے سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنے اپنے علاقوں کا رونا روتا نظر آتا ہے لیکن اجتماعی طور پر سب منتشر ہیں بکھرے ہوئے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کراچی کی دعویدار بنتی ہے لیکن کراچی کے شہریوں کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہے۔
بیشک کراچی کے چند مخصوص علاقے کسی نہ کسی مخصوص کمیونٹی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں لیکن ان میں بھی دیگر کمیونٹی کے افراد رہائش پزیر ہیں۔
کیا کراچی کی سڑکوں یا شاہراہوں ہر کہیں لکھا ہے کہ اس راستے پر صرف مخصوص کمیونٹی کے لوگ ہی سفر کر سکتے ہیں،جبکہ ہر راستے سے تمام کراچی والے مشترکہ طور پہ سفر کرتے ہیں، کسی دکاندار نے اپنی دکان مخصوص کمیونٹی کے نام کر رکھی ہے؟ کیا دودھ کا نظام پنجابی کمیونٹی نے، سخت مزدوری اور بازاروں میں سبزی فروٹ اور لنڈے کا کام پٹھانوں نے، پان سگریٹ کا کام مہاجروں نے، بسوں کاروں اسکول وینز کے ڈرائیور مہاجر، ٹرکوں ٹرالیوں کے ڈرائیور پٹھان، عام مستری مزدور سرائیکی و سندھی، ہوٹلوں خصوصاً چاہے کے ہوٹلز میں بلوچی، منڈیوں میں اندرون سندھ سے اجناس کی ترسیل میں سندھی، سرکاری دفاتر میں اندر باہر سندھی و مہاجر، سب شہری ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، کسی بھی کمیونٹی کو شہر سے بے دخل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے مزید بڑھتے ہیں۔
الغرض زندگی کے مختلف شعبہ جات کسی نہ کسی کمیونٹی کے ہی مرہون منت ہیں۔ صرف الیکشن کے مواقع پر عوام اپنے من پسند امیدوار کے لیے ان کی سیاسی مہم کا وقتی طور پر حصہ بنتے ہیں بیشک بعد میں انہیں نمائیندوں سے اپنے مسائل کے حل کے لیے منت سماجت ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور انہیں کوستے ہی نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی حکومت ختم ہو جاتی ہے یا مدت پوری کر کے وہی چہرے دوبارہ مسلط ہو جاتے ہیں۔
جب سڑکوں چوراہوں اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سب شہریوں کے لیے ایک ہیں مشترکہ و یکجا ہیں، اگر کہیں کوئی زخمی ہو یا ہلاک ہو جائے یا کوئی حادثہ ہو سب لوگ بلا تفریق لسانیت یا سیاسی وابستگی کے متاثرین کی مدد کے لیے یکجا ہو جاتے ہیں جیسے کچھ دن پہلے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا سن کر سب شہری اجتماعی طور پر پمپس پہ جمع ہو گئے وہاں بھی لسانی یا سیاسی وابستگی کی بنا پر لائیں نہیں لگیں یعنی جو کراچی میں رہتا ہے چاہے اس کے شناختی کارڈ پہ پتہ کراچی کا ہو یا نہ ہو وہ بھی ان مصائب و مشکلات کو سب کے ساتھ بگھت رہا ہے۔
کراچی کے عوام کسی مسیحا کے منتظر ہیں جو انہیں نجات دلا سکے جبکہ اگر تمام شہری مذہبی، لسانی اور سیاسی وابستگی کو پس پشت ڈال کر صرف CITIZEN OF KARACHI بن کر متحد ہو جائیں تو یہ یکجہتی ہی انہیں مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے کسی لیڈر، رہنما یا شخصیت کی انہیں قطعاً ضرورت نہیں ہر بندہ خود ہی قیادت کا حامل بنے اور خود ہی کارکنان میں شامل ہو جائے، یعنی صرف اپنی مدد آپ کے تحت میدان عمل میں اترے اور چھٹکارے کی جدو جہد کا حصہ بنے گا تو مسائل کا حل بھی ملے گا اور شہر کراچی کے مظالم کا بھی ازالہ ہو سکتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار، حکومت سے بغاوت، قانون نافظ کرنے والے اداروں سے ٹکراؤ جیسے اقدامات سے ہٹ کر صرف پُرامن احتجاج سے مسائل کے حل کے لیے دباؤ ڈالنا اصل حل ہے۔ ٹکراؤ سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کراچی کے عوام کو اتحاد یکجہتی کے ساتھ اپنے باشعور ہونے کا بھی ثبوت دینا ہو گا۔
اسد الحق قریشی
چیئرمین
ابابیل خیرالبشر موومنٹ
