
“تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”
کو ہ سلیمان سے
احمد خان لغاری
گذشتہ ہفتے ڈیرہ غازیخان میں لٹل سکالرز سکول کے اندوہناک واقعہ کو حادثہ کہو، سانحہ کہوں یا پھر قیامت صغریٰ۔ ایک پرائیویٹ سکول کی خستہ عمارت کی چھت دوران سکول اوقات ننھے پھولوں اور کلیوں پر آگری جس میں سرکاری طور پر چار بچے جاں بحق ہوگئے اور تقریبا 18بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات رہیں۔ شہر کے عین وسط میں سکول کی چھت گرنے سے وہ قیامت برپا ہوئی کہ الامان والحفیظ۔ یہ اطلاع بچوں کے والدین کی سماعتوں سے جیسے ٹکرائی تو والدین، بھائی، بہنوں کا رخ سکول کی طرف تھا۔ تمام اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے، کسی کو ننھی بچیوں کے مردہ جسم ملے تو کئی سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کررہے تھے۔ مائیں اپنی چادروں کے بغیر اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ مجھے سانحہ اے پی ایس یاد آگیا جب وہا ں بزدل دشمن نے بچوں کو تڑپا دیا اور خون میں نہلا دیا تھا۔ لواحقین اپنے پیاروں کو ڈھونڈ نے نکلے تھے۔ جنہیں صبح سکول کیلئے تیار کیا گیا ہوگا اور مائیں ان کی واپسی کی منتظر تھیں وہ مناظر ابھی تازہ ہیں کہ ڈیرہ غایخان میں ہی سانحہ ہوگیا چھت گرنے کی اطلاع اسقدر اچانک تھی کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مکمل عمار ت کی چھت نہ گرگئی ہو۔ والدین اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کیلئے سڑکوں پر دیوانہ وار دوڑ رہے تھے۔ انتظامیہ کے ذمہ داران سکول پہنچ کر بچوں کو ہسپتال روانہ کررہے تھے اور ملبہ سے زخمیوں کو نکال رہے تھے۔ شام تک چار بچوں کے جنازے اٹھائے گئے تو ایک اداس شام تھی، ہر شخص سوگوار تھا، کسی شخص کا کوئی رشتہ ناتہ نہ ہونے کے باوجود غمگین تھا۔ شہر کے عوامی نمائندے موقع پر پہنچے، جس میں سردار محمود قادر لغاری پیش پیش تھے۔ ممبر صوبائی اسمبلی محمد حنیف خان پتافی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالعلیم شاہ کی کاوشیں قابل قدر تھیں۔ اس سانحہ کے دو گھنٹے کے اندر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈیرہ غازیخان سے رکن صوبائی اسمبلی سردار محمد احمد خان لغاری نے ایوان کی توجہ اس سانحہ کی طرف دلائی اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اس طرح انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی اور واقعہ کی ایف آئی آر سرکار کی مدعیت میں سکول کی عمارت کے مالک اور کرایہ دار کے خلاف جو ادارہ کا پرنسپل ہے درج کرلی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازیخان کے انفورسمنٹ انسپکٹر عرفان حیدر کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق تعزیرات پاکستان کی دفعات 322,324,34اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت چند لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے ایف آئی ٓر پر لواحقین،شہریوں اور ایم این اے سردار محمود قادر لغاری اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے واضع موقف اپنایا کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کاروائی سے گریز کیا گیا ہے اور ذمہ داران کو گرفت میں لانے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور وزیر اعلی پنجاب سے استدعا کی ہے کہ سکول کے مالک اور متعلقہ محکمہ جات جو اس سانحہ کے ذمہدار ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی “تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے”
کو ہ سلیمان سے
احمد خان لغاری
گذشتہ ہفتے ڈیرہ غازیخان میں لٹل سکالرز سکول کے اندوہناک واقعہ کو حادثہ کہو، سانحہ کہوں یا پھر قیامت صغریٰ۔ ایک پرائیویٹ سکول کی خستہ عمارت کی چھت دوران سکول اوقات ننھے پھولوں اور کلیوں پر آگری جس میں سرکاری طور پر چار بچے جاں بحق ہوگئے اور تقریبا 18بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات رہیں۔ شہر کے عین وسط میں سکول کی چھت گرنے سے وہ قیامت برپا ہوئی کہ الامان والحفیظ۔ یہ اطلاع بچوں کے والدین کی سماعتوں سے جیسے ٹکرائی تو والدین، بھائی، بہنوں کا رخ سکول کی طرف تھا۔ تمام اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے، کسی کو ننھی بچیوں کے مردہ جسم ملے تو کئی سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کررہے تھے۔ مائیں اپنی چادروں کے بغیر اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ مجھے سانحہ اے پی ایس یاد آگیا جب وہا ں بزدل دشمن نے بچوں کو تڑپا دیا اور خون میں نہلا دیا تھا۔ لواحقین اپنے پیاروں کو ڈھونڈ نے نکلے تھے۔ جنہیں صبح سکول کیلئے تیار کیا گیا ہوگا اور مائیں ان کی واپسی کی منتظر تھیں وہ مناظر ابھی تازہ ہیں کہ ڈیرہ غایخان میں ہی سانحہ ہوگیا چھت گرنے کی اطلاع اسقدر اچانک تھی کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مکمل عمار ت کی چھت نہ گرگئی ہو۔ والدین اپنے بچوں کی خیریت معلوم کرنے کیلئے سڑکوں پر دیوانہ وار دوڑ رہے تھے۔ انتظامیہ کے ذمہ داران سکول پہنچ کر بچوں کو ہسپتال روانہ کررہے تھے اور ملبہ سے زخمیوں کو نکال رہے تھے۔ شام تک چار بچوں کے جنازے اٹھائے گئے تو ایک اداس شام تھی، ہر شخص سوگوار تھا، کسی شخص کا کوئی رشتہ ناتہ نہ ہونے کے باوجود غمگین تھا۔ شہر کے عوامی نمائندے موقع پر پہنچے، جس میں سردار محمود قادر لغاری پیش پیش تھے۔ ممبر صوبائی اسمبلی محمد حنیف خان پتافی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالعلیم شاہ کی کاوشیں قابل قدر تھیں۔ اس سانحہ کے دو گھنٹے کے اندر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ڈیرہ غازیخان سے رکن صوبائی اسمبلی سردار محمد احمد خان لغاری نے ایوان کی توجہ اس سانحہ کی طرف دلائی اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ اس طرح انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی اور واقعہ کی ایف آئی آر سرکار کی مدعیت میں سکول کی عمارت کے مالک اور کرایہ دار کے خلاف جو ادارہ کا پرنسپل ہے درج کرلی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازیخان کے انفورسمنٹ انسپکٹر عرفان حیدر کی مدعیت میں درج مقدمہ کے متن کے مطابق تعزیرات پاکستان کی دفعات 322,324,34اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت چند لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے ایف آئی ٓر پر لواحقین،شہریوں اور ایم این اے سردار محمود قادر لغاری اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے واضع موقف اپنایا کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کاروائی سے گریز کیا گیا ہے اور ذمہ داران کو گرفت میں لانے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور وزیر اعلی پنجاب سے استدعا کی ہے کہ سکول کے مالک اور متعلقہ محکمہ جات جو اس سانحہ کے ذمہدار ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ رات گئے متوفی بچوں کے والدین سراپا احتجاج اور دھرنا دیے بیٹھی رہیںعمل میں you لائی جائے۔ رات گئے متوفی بچوں کے والدین سراپا احتجاج اور دھرنا دیے بیٹھی رہیں
عوامی نمائدوں کے تعاون سے پولیس حکام نے معاملات کنٹرول کئے ایف آئی آر میں ورثا کو شامل کئے جانے اور پرنسپل کی فوری گرفتاری کے مطالبات تسلیم کئے گئے۔ کتنے بچے جان سے گئے اور آگے کیا ہوگا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ڈیرہ غازیخان میں بر سر اقتدار جماعت کے تمام ممبران اسمبلی وہ کوشش کر رتے ہیں کہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوبہ جات لائیں، انڈس ہائی وے، غازی گھاٹ کا دوسرا پل، کینسر ہسپتال جیسے مطالبات کی منظوری کی خبریں آچکی ہیں۔ طویل عرصے سے ایئر پورٹ بند تھا، خبریں ہیں کہ اسے بھی رات کو جہازوں کی سہولیات کے ساتھ بحال کیا جارہا ہے۔ ملتان تک طویل عرصہ سے ٹرین کی بندش کے بعد اسے بھی بحال کردیا گیا ہے۔ اس کے باوجود عام شہری کی شکایات میں اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں دواؤں، ڈائیلسز مشین، MRIمشین اور دیگر مشینری نہ ہونے کی شکایات عام ہیں، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، نئی سڑکیں اگر بنائی جاری ہیں تو ان کی تعمیر ناقص ہے۔ وہ محض اس لیے کہہ اگر ٹھیکیدار کم ریٹس پر کام کرے گا تو وہ “سرکاری اخراجات” اداکرے یا پھر معیاری تعمیر پر توجہ دے۔ اس کے علاوہ 1122کی ایمبولینس گاڑیاں کھٹارا بن چکی ہیں سوشل میڈیا پر سب سے اہم شکایت شہر میں واسا کے متعلق ہیں اربوں روپے کی لاگت سے پورے شہر میں sanitation، سیوریج کا پورا نظام تبدیل کیا جارہا ہے۔ زیر استعمال پائپ کی کوالٹی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ پورا شہر کھدائی کے بعد کھنڈر ات کے مناضر پیش کر رہاہے۔ عیدالضحیٰ قریب تر ہورہی ہے دکاندار اس لیے تنگ ہیں کہ بازاروں میں کھدائی کے بعد مٹی اور ریت کے ٹیلے عجیب ہی منظر پیش کررہے ہیں۔ دکانداروں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ انتظامیہ نے شکایات کے پیش نظر ٹھیکیدارکی طرف سے بچھائے جانے والے پائپ کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے لگائی گئی مقامی فیکٹری کا معائنہ کیا۔ مقامی ایم این اے سردار محمود قادر لغاری اور ایم پی اے محمد حنیف پتافی اور ایم ڈی واسا کے درمیان بھی “چند معاملا ت ” پر بداعتمادی کی فضا چل رہی تھی۔ اس ساری صورت ھال اور شکایات کے پیش نظر محکمہ پبلک ہیلتھ اکے نجینئرجو اپنے شعبہ میں پی ایچ ڈی ہیں شدید مایوس تھے،اورانہوں نے مبینہ طو رپراعلی حکام کو کسی دوسرے آفیسر کو واسا کا انتظام دینے کی بھی درخواست کی۔ ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ نے بھی شکایات سے بچنے کیلئے حکام کو تبدیلی کی رضامندی دی اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے آفیسر کی بطور انچارج واسا کی سفارش کی ہے جو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے۔ تاحال کسی افسر واسا کی نئی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اگر سیوریج لائن بچھانے میں تاخیر ہوتی رہی تو مون سون کے موسم آتے ہی اربوں روپے کا نقصان ہوجائیگا۔ سانحہ لٹل سکالر سکول ڈیرہ غازیخان کے بچوں کی اچانک اموات نے والدین کے علاوہ شہریوں کو دکھی اور رنجیدہ کیا ہوا ہے۔ ان کے احتجاج اور دھرنے نے سکول کے پرنسپل اور مالک کی گرفتاری سے امن ضرور ہوا ہے لیکن والدین مطمئن نہیں ہیں کیونکہ عام شخص بھی اس سانحہ کاجن افسران کو شریک جرم سمجھتے ہیں وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ کیا ایک شخص کی گرفتاری سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے؟ ہرگز نہیں حقیقت یہ ہے کہ جب تک کرپشن اور لاپروای پر شامل مجرمان کو کڑی سزائیں نہیں دی جاتیں۔ اسی طرح معصوم بچوں اور دیگر شہریوں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔ معصوم بچوں کے والدین محکمہ تعلیم، کارپوریشن اور انتظامیہ کے سینئر افسران کو بھی اس سانحہ کا ذمہ دار کراردیتے ہیں کیونکہ
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
