
جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد
جماعت اسلامی ”بدل دو نظام کو، سنوارو دو سندھ کو“کے عنوان سے پورے سندھ میں عوامی رابطہ مہم شروع کر دی ہے، ملک پر مسلط چند خاندانوں نےسندھ کو تباہ اور عوام کو مایوس کیا ہے، حیدرآباد کے اند ر تعمیر و ترقی کا عمل کہیں نظر نہیں آتا، صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے مسائل کس طرح حل ہوں گے، سندھ کے ہر ضلع پر پیپلز ہارٹی کا قبضہ ہے، جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف کی مقامی رہنماؤں کے ہمراہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس
حیدرآباد( مجاہد عزیز)
جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری محمد یوسف نے کہا ہے کہ 17سال سے سندھ پر قابض پیپلزپارٹی نے صحت، تعلیم،صنعت وزرات کو تباہ کردیا،پورا سندھ کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے، سندھ کے ہر ضلع پر پیپلز ہارٹی کا قبضہ ہے،کراچی میں بھی قبضہ کر کے اختیار حاصل کرلیا ہے، کچرے اور گندگی کی وجہ سے حیدرآباد میں ملیریا کے کیسز بڑھے، سندھ میں ہر طرف لاقانونیت ہے، زراعت کے معاملے میں بھی کاشتکار کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں کاشتکار اس پیشے سے مایوس ہوکر اس پیشے کو چھوڑ رہے ہیں،بڑی تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کیا جس میں سندھ کا مقدمہ لڑا،جماعت اسلامی نے اس نظام کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید، جنرل سیکریٹری محمد حنیف شیخ اور ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ سفیان ناصر بھی موجود تھے۔ محمد یوسف نے کہا کہ یہ پارٹیاں ڈلیور کرنے کے قابل نہیں ہیں، لوگ ان پارٹیوں سے نجاد چاہتے ہیں، الیکشن میں چودھریوں اور وڈیروں کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے، حکمران طبقے نے اس نظام کو مفلوج کردیا ہے، ہم نے طے کیا ہے کہ سندھ میں اس نظام کے خلاف تحریک چلائیں گے، انہوں نے کہا کہ، پیپلز پارٹی کس چیز کا نام ہے، ایک خاندان اور چند وڈیرے، سندھ میں بچوں کے پیروں میں چپل موجود نہیں، تن کپڑے نہیں، جماعت اسلامی اس نظام کی تبدیلی کیلئے اوّل دستے کا کام کرے گی، ہم نے آل پارٹی کانفرنس بھی کی پارٹیوں کو جمع بھی کیا تاکہ حکومت پر دباؤں ڈالا جا سکے، سندھ میں نہ تعلیم ہے، نہ صحت ہے، آنے والے وقت میں جماعت اسلامی ہی لوگوں کی امید بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف حیدرآباد میں ڈینگی اور ملیریا سے پچاس ہزار افراد متاثر ہوئے سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے،یہاں کے صنعتی ادارے بند اور تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث نوجوان اپنے مستقبل کے لئے پریشان ہیں کراچی کی طرح حیدرآباد کی آبادی کو بھی مردم شماری کم ظاہر کیا گیا پھر بھی کم وبیش26لاکھ کی آبادی کے شہر کے لئے ترقیاتی بجٹ میں صرف ڈیڑھ اب روپے رکھے گئے ہیں وہ بھی شہر میں لگتے ہوئے دیکھائی نہیں دیتے، سندھ پر مسلط روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانی والی پیپلزپارٹی نے اپنے ہی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل نہیں کئے جماعت اسلامی باختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے سندھ میں چار ہزار گھوسٹ اسکول موجود ہیں جبکہ78ہزاربچے اسکولوں سے باہر ہیں سندھ پر ڈاکو راج قائم ہے، جس کے خلاف صرف جماعت اسلامی نے آواز بلند کی بدامنی کا یہ حال ہے کہ سندھ میں خود پولیس پر2900حملے ہوئے،کندکوٹ سے بڑے پیمانے پر تاجراپنا کاروبار ختم کرکے دیگر علاقوں میں منتقل ہوگئے۔
