
سرگودھا (رپورٹ بیورو)ایگزیکٹو افیسر کنٹونمنٹ بورڈ سرگودھا ارسلان حیدر نے افسران کی مبینہ ملی بھگت کے تحت انجینئرنگ برانچ میں کام کرنے والے اہلکار بابر ظفر کو معطل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق بابر ظفر سکیل دو کا سروس مین ہے، جس کا اصل تعلق گارڈن برانچ سے ہے، تاہم اس نے مبینہ طور پر سازباز کے ذریعے اپنے تبادلے کے آرڈر انجینئرنگ برانچ میں کروا رکھے تھے۔ بابر ظفر گزشتہ کئی برسوں سے تعمیراتی کاموں، واٹر سپلائی اور دیگر امور کا انچارج بنا ہوا تھا اور اس دوران اس پر کرپشن میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات سامنے آتے رہے۔ذرائع کے مطابق سابق ایگزیکٹو افیسر کے دور میں بھی بابر ظفر کے خلاف غیر قانونی واٹر کنیکشن لگانے کی انکوائری کی گئی تھی، جس میں سینکڑوں غیر قانونی کنیکشن لگانے کا انکشاف ہوا، تاہم افسران کی مبینہ ملی بھگت اور کرپشن کے باعث یہ معاملہ دبا دیا گیا اور کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی۔چند روز قبل سرگودھا کے علاقہ یونیورسٹی روڈ کے ایک مکین نے کنٹونمنٹ بورڈ سرگودھا میں تحریری شکایت جمع کروائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بابر ظفر نے پینے کے پانی کا کنکشن لگانے کے عوض ہزاروں روپے رشوت وصول کی۔ درخواست گزار نے رشوت کی ادائیگی کے واضح اور ٹھوس شواہد بھی ایگزیکٹو افیسر کو فراہم کیے۔
شکایت اور دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں موجودہ ایگزیکٹو افیسر کنٹونمنٹ بورڈ سرگودھا ارسلان حیدر نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوری کارروائی کی، بابر ظفر کو معطل کر دیا اور اسے گارڈن برانچ میں رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بابر ظفر کے خلاف کرپشن الزامات کی باقاعدہ انکوائری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، جسے ادارے میں احتساب کے عمل کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
