
سرگودھا بلاک نمبر 1 کی تاریخی حیثیت بحال کر دی گئی ہے، تاہم محکمہ اوقاف کے افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کے باعث مسجد کے تہہ خانے پر قابض تاجروں کا قبضہ تاحال واگزار نہیں کروایا جا سکا1899 ء میں تعمیر ہونے والی اس تاریخی مسجد کی مارکیٹ پر طویل عرصے سے قابض مفت خور تاجر آج ارب پتی بن چکے ہیں، جبکہ محکمہ اوقاف کے افسران اپنی جیبیں بھرتے رہے اور دو صدیوں کے دوران مسجد پر چند کوڑیوں کے سوا کوئی قابلِ ذکر خرچ نہیں کیا گیا۔
میڈیا کی جانب سے اس تاریخی مسجد کی اصل حیثیت کو اجاگر کیے جانے کے بعد انتظامیہ کو ہوش آیا اور مسجد کی راہداریوں کو تاجروں کے قبضے سے واگزار کرا کے اس کی اصل شکل بحال کر دی گئی، تاہم تہہ خانے پر اب بھی مفت خور تاجر قابض ہیں۔
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر تہہ خانے کا قبضہ ختم کروا کر مسجد انتظامیہ کے سپرد کیا جائے تاکہ اسے تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے باوثوق ذرائع کے مطابق امام مسجد کی رہائش گاہ پر بھی تاجر قابض ہیں اسے واگزار کروایا جائے تاکہ امام مسجد کو رہائشی بہم پہنچائی جاسکے
