ڈائریکٹر جنرل حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر افشاں رباب سید نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کو ایچ ڈی اے کی گورننگ باڈی میں شامل کیا جائے گا
حیدرآباد ڈائریکٹر جنرل حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر افشاں رباب سید نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کو ایچ ڈی اے کی گورننگ باڈی میں شامل کیا جائے گا تاکہ شہرِ حیدرآباد کے معاشی معماروں کی تجاویز ہر ترقیاتی اسکیم اور پروجیکٹ کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ایچ ڈی اے کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی اور حیدرآباد چیمبر کی سفارشات پر عملی کام کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ایچ ڈی اے کے لیے گلستانِ سرمت اسکیم کو تاجروں اور عوام تک پہنچانا اس سال کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے واٹر سپلائی پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی کے لیے حیسکو چیف سے رابطہ جاری ہے۔ انہوں نے حیدرآباد چیمبر کو گلستانِ سرمت میں دفتر قائم کرنے کی پیشکش کی،تاکہ چیمبر آفس کی وہاں موجودگی کے ساتھ تاجروں اور عوام کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔ وہاں کے کمرشل پلاٹس پر فارم ہاؤسز تعمیر کرکے لیز پر دینے کا عندیہ دیا، عوامی فلاح کے لیے ایک تفریحی پارک بنانے کا اعلان کیا اور اس روڈ پر مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی تعمیر کے لیے بھی تاجروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔اس سے قبل حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ایچ ڈی اے اور حیدرآباد چیمبر کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شہر کی منصوبہ بندی، زوننگ، رہائشی اسکیموں، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فعال اور مستحکم ایچ ڈی اے ہی ایک منظم، سرمایہ کاری دوست اور معاشی طور پر مضبوط حیدرآباد کی بنیاد رکھ سکتی ہے، اور اگر دونوں ادارے ایک دوسرے کے تجربات، فیلڈ ڈیٹا اور زمینی حقائق کو یکجا کریں تو شہری اور کاروباری مسائل کا دیرپا حل ممکن ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈی جی ایچ ڈی اے کی قیادت میں ادارہ دوبارہ فعال کردار ادا کرے گا اور آج کے اجلاس کو ایک نئے، نتیجہ خیز اور عملی تعاون کا آغاز ثابت کرے گا۔اجلاس میں لوکل گورنمنٹ سب کمیٹی کے کنوینر جناب کاشف شیخ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایچ ڈی اے گزشتہ بیس برس سے اپنے قانونی کردار کے مطابق کام نہیں کر رہا، جس کے باعث شہر میں منصوبہ بندی، انتظام اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں واضح خلا پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم اور متوسط آمدنی والے شہری آج بھی سستی رہائش سے محروم ہیں، مؤثر ماسٹر پلاننگ، زوننگ اور شہر کی خوبصورتی کا کوئی واضح نظام نظر نہیں آتا، اور آبادی میں تیز اضافے اور شہری پھیلاؤ کے باوجود ایچ ڈی اے کا دائرہ اختیار تاحال نہیں بڑھایا گیا۔انہوں نے توجہ دلائی کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ٹریفک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ غیر فعال ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹریفک کے مسائل، سڑکوں کے ناقص ڈیزائن اور شہری نقل و حرکت پر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے زور دیا کہ ایچ ڈی اے کے آپریشنل نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے غیر بنیادی امور آؤٹ سورس کیے جائیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو اپنایا جائے۔ کاشف شیخ نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ پینتیس برسوں میں جن ہاؤسنگ اور ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کیا گیا، وہ آج تک مکمل نہیں ہو سکیں، حالانکہ عوام سے ان کی مکمل رقوم وصول کی جا چکی ہیں، اور ایچ ڈی اے کا ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ عملاً ناکام نظر آتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف احتساب، محکموں کی بحالی اور کارکردگی میں حقیقی بہتری کے اقدامات کیے جائیں تاکہ حیدرآباد کے شہریوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔اس موقع پرڈائریکٹر جنرل نے ان تمام پوانٹس پر ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو واضح ہدایات جاری کی اور تمام ممبران کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔ اس موقع پر سابق صدور، ممبر ایگزیکٹیو کمیٹی، کنونیئرز اور ممبران جنرل باڈی بھی موجود تھے۔ سیکریٹری جنرل