حیدرآباد شمع کمرشل ایسوسی ایشن اینڈ انڈسٹریز کے صدر اعجاز علی راجپوت جنرل سیکریٹری نواب الدین قریشی اور فوڈ کوآرڈینیٹر ہاشم ملک نے ایک بیان میں حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں گندم آٹا بحران پر افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ اسے محکمہ خوراک کی بدترین نااہلی قرار دیا انہوں نے کہاکہ ہر سال گندم کا بحران پیدا کرکے مافیاء کو عوام سے لوٹ کھسوٹ کا بھرپور موقع فراہم کیا جاتا ہے افسران نے تماشہ لگایا ہوا ہے سرکاری گوداموں سے اربوں روپے کی گندم کا غائب ہو جانا مبینہ کرپشن کی بدترین مثال ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرپٹ اور راشی افسران کو لوٹ مار کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے حکومت ایک طرف قومی خزانے سے گندم پر 80 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہی ہے تاکہ عوام کو سستا آٹا مہیا کیا جاسکے دوسری طرف افسران کی مبینہ کرپشن اور موج مستیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں عوام کی جیبوں پر کھلے عام ڈاکہ ڈالا رہا ہے عوام کو ریلیف کے بجائے مہنگائ کے عذاب میں مبتلا کیا جارہا ہے عوام ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں دوسری طرف افسران کی نا ختم ہونے والی عیاشیاں جاری ہیں افسران ہر دو سال بعد گندم بحران پیدا کرکے عوام کو انسانوں کی بنیادی اشیاء آٹا کے حصول میں پریشانیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں انہوں نے محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کوٹہ کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم پر بھی شدید تحفظات عدم اطمینان کا اظہار کیا
