حیدرآباد محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے حیدرآباد کے اکثریتی عوام کو آٹا فراہم کرنے والی اٹا چکیوں کو اسٹون پالیسی کے تحت فی پتھر روزانہ صرف 88 کلو گندم کے چالان کا انتہائی قلیل کوٹہ کا اجراء کردیا گیا آٹا چکیوں کو انتہائی ناکافی سرکاری گندم کوٹہ جاری کرنے کے بعد جمعرات کو حیدرآباد کی اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کے نرخ 11200 تک پہنچ گئیے بیوپاریوں نے قیمتوں میں مذید اضافہ کے پیش نظر گندم کی فروخت عارضی طور پر بند کردی ہے جس سے صورتحال مذید گھمبیر ہونےکا خطرہ بڑھتا جارہا ہے دوسری جانب ذرائع کے مطابق سرکاری گوداموں سے آٹا چکیوں کو مہیا کردہ گندم میں مٹی پتھر کچرہ تنکوں کی مبینہ ملاؤٹ کی شکایت کے سبب چکی مالکان میں تشویش پائ جاتی ہے اور اسکے برعکس رولر فلور ملز جنکے زیادہ تر آئٹمز بیکری ائٹمز ھوتے ہیں انکو فی رولر مل ماہانہ ہزاروں سو کلو والی بوریوں کا کوٹہ دیا گیا ھے اس ضمن میں آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان کے مطابق محکمہ خوراک سندھ نے حیدرآباد کی 90 فیصد سے زائد عوام کو محلوں اور گلیوں کی سطح پر غذائیت سے بھرپور معیاری آٹا فراہم کرنے والی 200 سو سے زائد آٹا چکیوں کو جنوری 2026 کے لئیے اسٹون پالیسی کے تحت فی پتھر یومیہ ناکافی 88 کلو سرکاری گندم کوٹہ کے چالان جاری کئیے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے محکمہ خوراک سندھ نے دسمبر 2025 کے جاری کردہ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم کوٹہ میں اضافہ کرنے کے بجائے اس میں کمی کرکے جنوری کے لئیے 10 ہزار میٹرک ٹن کردیا جبکہ رولر فلور ملز کے دسمبر کے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کوٹہ میں 10 ہزار ٹن کا اضافہ کرکے جنوری 26ء کا سرکاری گندم کوٹہ 40 ہزار ٹن سے بڑھا کر 50 ہزار میٹرک ٹن کردیا جس کی وجہ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں اضافہ کا رجحان پیدا ہوگیا ہے
