حیدرآباد ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (ڈی سی سی) برائے پیفٹیک (NPVE) اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، وومین ڈولپمینٹ، سماجی بہبود، اور مختلف مذہبی و سماجی نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے زین العابدین میمن کہا کہ انٹر فیتھ ہارمنی کمیٹی ایک اوپن فورم ہے جس کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیفٹیک ایک ایسا ادارہ بنایا گیا ہے جو مذہبی اور سماجی انتہا پسندی کے انسداد اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے، اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے تمام مسالک اور طبقات کو متحد کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ جب بھی ملک اور افواج پاکستان کے خلاف کوئی منفی پروپیگنڈا سامنے آئے تو علماء مساجد، خطبات اور اجتماعات کے ذریعے قومی سلامتی اور یکجہتی کا پیغام دیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں افواج پاکستان نے دشمن کو شکست دے کر معرکۂ حق میں کامیابی حاصل کی، جو پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو واضع کیا کہ ضلع حیدرآباد میں 194 مدارس قائم ہیں جن میں سے 16 مدارس غیر رجسٹرڈ ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ان مدارس کی رجسٹریشن کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور انتظامیہ ان کے تمام قانونی اور انتظامی مسائل حل کرنے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مدارس کو کسی بھی قسم کی سہولیات یا مدد درکار ہو تو متعلقہ محکموں کو متحرک کر کے ان کے مسائل حل کیے جائیں گے، جبکہ اس سلسلے میں ماہانہ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
مختلف مذہبی اور سماجی نمائندوں نے انتظامیہ کو مدارس کے ناظمین کے ساتھ باقاعدہ اجلاسوں کی تجاویز دیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مساجد، خطبات اور مدارس کے ذریعے معاشرے میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاتا رہے گا۔ شرکاء نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن سے انتظامی امور میں آسانی پیدا ہوگی اور تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر شہر حیدرآباد کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ شہر کا ماحول ہمیشہ پرامن رہے۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حیدرآباد میں ماضی کی طرح تمام مکاتب فکر باہمی مشاورت اور تحمل کے ذریعے ہر مذہبی و سماجی مسئلے کا حل نکالتے رہیں گے اور شہر میں بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
