


زرعی یونیورسٹی میں ماہرین نے نوجوانوں کے بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے سماجی شمولیت کو کلیدی قرار دے دیا
ٹنڈوجام (پریس ریلیز) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا ہے کہ موجودہ دور محض تعلیمی اسناد کا نہیں بلکہ عملی مہارتوں، پیشہ ورانہ قابلیت اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط روابط کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات اور قدرتی وسائل پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ سالانہ تقریباً 2.5 فیصد کی شرح سے آبادی میں اضافہ معاشی ترقی اور وسائل کے مؤثر انتظام میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خود کو تعلیم، مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں، روزگار کی تیاری اور فیصلہ سازی کے پلیٹ فارمز میں بامعنی شمولیت کے لیے تیار کریں۔وہ سندھ زرعی یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ ٹیچر انگیجمنٹ پروگرام (STEP) کے تحت منعقدہ سیمینار “سماجی شمولیت اور نوجوانوں کا بااختیار بنانا” سے خطاب کر رہے تھے، جس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے تعاون فراہم کیا۔ڈاکٹر الطاف سیال نے ملکی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی دباؤ، قدرتی آفات اور محدود معاشی اصلاحات کے باعث ملک میں غربت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور حالیہ برسوں میں غربت کی شرح تقریباً 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ بھی ایک سنگین قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان گندم اور چاول جیسی بنیادی اجناس میں بڑی حد تک خود کفیل ہے، تاہم خوراک تک رسائی اور مناسب غذائیت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے سماجی شمولیت کو پائیدار قومی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا عمل صرف نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عملی مواقع میں ڈھلنا چاہیے، تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور انہیں مؤثر انداز میں بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سماجی طور پر ذمہ دار، پراعتماد اور باصلاحیت گریجویٹس تیار کریں جو موجودہ معاشی اور سماجی چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔چیئرمین STEP پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور زرعی پیداواری صلاحیت میں کمی کے باعث سندھ سمیت ملک بھر میں معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر نوجوانوں پر پڑے گا اور ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے منظم رہنمائی، سرپرستی اور جامع پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان مکالمے پر مبنی روابط نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، قیادت اور شہری ذمہ داری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر تحسین فاطمہ میانو نے “نوجوانوں کے لیے فوڈ باسکٹ” کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غذائیت، غذائی تحفظ اور بااختیاری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی طلبہ کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔دیگر مقررین جن میں ڈاکٹر سہیل احمد اوٹھو، میر راحب تالپور اور فاطمہ نظامانی شامل تھیں، نے بھی سماجی شمولیت، صنفی مساوات اور نوجوانوں کی فعال شرکت پر زور دیا اور ایسے تعلیمی ماحول کی ضرورت اجاگر کی جو تنوع، مساوی مواقع اور طلبہ کی بھرپور شمولیت کو فروغ دے۔تقریب میں طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ پروگرام کا اختتام ایک بھرپور سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔
