حیدرآباد لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد و جامشورو انتظامیہ کے اعلامیہ کے مطابق لیاقت یونیورسٹی ہسپتال (LUH)میں سال 2020-21کے دوران نصب کیا جانے والا انسی نیریٹر جو مختلف تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی بناء پر غیر فعال رہا،تاہم موجودہ انتظامیہ کی کوششوں سے16جنوری2026ء کو کامیابی کے ساتھ فعال کر دیا گیاہے جو کہ لیاقت یونیورسٹی ہسپتال میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن کنٹرول کے لیے اہم پیش رفت ہے ۔اعلامیہ میں مزید کہاگیا کہ یہ اہم پیش رفت قومی انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (IPC)گائیڈ لائنز اور ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز 2014پر موثر عملدرآمد کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ماضی قریب میں ہسپتال کے خطرناک کچرے کی غیر قانونی فروخت اور غیر محفوظ طریقے سے تلفی کے سنگین واقعات کو قومی ذرائع ابلاغ میں اجاگر کیا گیا جوکہ عوامی صحت، مریضوں، ہسپتال کے عملے اور ماحول کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے۔انسی نیریٹر کے فعال ہونے سے متعدی اور خطرناک ہسپتال کچرے کی محفوظ، سائنسی اور ہسپتال کے اندر تلفی ممکن ہو سکے گی ،کچرے کے دوبارہ استعمال، فروخت اور ماحولیاتی آلودگی کے خدشات کا خاتمہ ہوگا۔اعلامیہ میں کہا گیاکہ لیاقت یونیورسٹی ہسپتال قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی معیارات کے قریب تر ہو جائے گایہ کامیابی موجودہ انتظامیہ کے عزم کی عکاس ہے،مریضوں کے تحفظ عملے کی حفاظت ماحولیاتی ذمہ داری شفافیت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل محفوظ ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک قانونی، طبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔لیاقت یونیورسٹی ہسپتال انفیکشن کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنانے اور عملی اقدامات کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
