
کراچی (20 جنوری : رپورٹ : محمد حسین سومرو): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم تک رسائی میں توسیع، اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانا اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی شراکت داریاں اور اقدامات عوامی کوششوں کی تکمیل کرتے ہیں تاکہ ایک جوابدہ اور جامع تعلیمی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
وہ پی ای سی ایچ ایس کیمپس میں بیکن ہاؤس کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں ادارے کی تعلیم کے شعبے میں پچاس سالہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بیکن ہاؤس کے سفر کو سراہا جو 1975 میں ایک چھوٹے مونٹیسوری اسکول سے شروع ہو کر آج دنیا کے بڑے نجی تعلیمی نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے جہاں پاکستان اور بیرونِ ملک چار لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
تقریب سے خطاب کے آغاز میں وزیراعلیٰ نے گل پلازہ کے واقعے کے شہدا کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا، اس کے بعد انہوں نے بیکن ہاؤس کی بصیرت افروز قیادت اور معیاری و جامع تعلیم کے لیے مسلسل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
بیکن ہاؤس کی گولڈن جوبلی کی تقریبات میں ادارے کے اس نمایاں ارتقا کو اجاگر کیا گیا جو صرف 19 بچوں کے ایک مونٹیسوری اسکول سے ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی نیٹ ورک تک پہنچا۔ اس موقع پر بیکن ہاؤس کی چیئرپرسن نسرین محمود قصوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر قاسم قصوری، سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، حکومت سندھ کے ارکان، سینئر ماہرینِ تعلیم، بیکن ہاؤس کی قیادت، اساتذہ اور معزز مہمانان شریک تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بیکن ہاؤس کی کامیابی محض ادارہ جاتی تسلسل ہی نہیں بلکہ اس شعبے میں اس کی مستقل اہمیت کی بھی عکاس ہے جو معاشروں اور قومی کردار کی تشکیل کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نیشنلائزیشن کے بعد پالیسی تبدیلیوں کے نتیجے میں نیٹ ورک کی توسیع نے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جو طویل عرصے تک اشرافیہ اور مشنری اداروں کے زیرِ اثر رہی۔
نسرین محمود قصوری کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے ملک بھر میں تدریس اور تعلیم کے لیے اعلیٰ معیارات قائم کرنے میں ان کے قائدانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے بیکن ہاؤس کو پاکستان کے تعلیمی شعبے میں خواتین کے سب سے بڑے آجروں میں سے ایک قرار دیا، جہاں 18 ہزار سے زائد عملہ جن میں اکثریت خواتین کی ہے، اساتذہ، اسکول قائدین اور تعلیمی منتظمین کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر میں بیکن ہاؤس کی موجودگی نے معیاری نصاب اور دی ایجوکیٹرز جیسے اقدامات کے ذریعے قومی یکجہتی کو مضبوط کیا ہے، جن کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے منظم اور قابلِ استطاعت تعلیم ممکن ہوئی۔ بین الاقوامی سطح پربیکن ہاؤس پاکستان کی نرم شبیہ کا مؤثر سفیر بن کر عالمی تعلیمی فورمز پر احترام اور شناخت حاصل کر چکا ہے۔
سندھ کی تعلیمی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر تعلیم تک رسائی میں توسیع، اساتذہ کے معیار میں بہتری اور اسکول سے باہر بچوں کو نظامِ تعلیم میں دوبارہ شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیکن ہاؤس کی شراکت داریاں اور نجی شعبے کے اقدامات ایک جوابدہ اور جامع تعلیمی نظام کی تشکیل میں عوامی کوششوں کی تکمیل کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مسز نسرین محمود قصوری کے ہمراہ ان کی کتاب “ونس اپون اے ٹائم – ایک دفعہ کا ذکر ہے” کی رونمائی کے لیے تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
تقریب کے اختتام پر بیکن ہاؤس برادری کو تعلیمی میدان میں پانچ دہائیوں کی تکمیل پر مبارکباد دی گئی اور ادارے کو مسلسل قیادت، عوامی خدمت اور آئندہ نسلوں کی تشکیل کے عزم کی علامت قرار دیا گیا۔
تقریب میں آئندہ شائع ہونے والی یادگاری کتاب کی جانب بھی توجہ دلائی گئی، جو گولڈن جوبلی کے موقع پر شائع کی جائے گی اور جسے علاقائی تاریخ، اقدار اور مشترکہ بیانیوں کو کلاس روم سے آگے محفوظ رکھنے والی ایک اہم دستاویز قرار دیا گیا۔
