
کوہ سلمان سے
احمد خان لغاری
دنیا بھر میں والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اختیار دیتے ہیں، اولاد جس شعبہ میں چاہیں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، اکثر ممالک میں بچوں کو تعلیم کیلئے ضروری قرض اور وظائف بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں یا پھر انجینئر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ معاشرے میں اعل مقام کیلئے یہی دو شعبہ جات قابل تکریم سمجھے جاتے ہیں۔ جو طالبعلم تعلیمی اعتبار سے بہتر ہے وہ غریب کی اولا ہی کیوں نہ ہو وہ میٹرک اور ایف ایس سی میں اعلی نمبر وں کے ساتھ ہر دو شعبہ جات میں سرکاری اداروں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تعلیمی وظائف کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں، اورسرکاری اداروں میں بھی دوران تعلیم طلباء ٹیو شنز پڑھا کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ متمول والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلہ دلواتے ہیں اور ایک محتاط انداز کے مطابق ایک کروڑ سے زائد اخراجات کے بعد وہ اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایم بی بکررہاہوں۔
داخلہ کی دسترس نہ ہو تو ڈینٹل کے شعبے میں چار سالہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ انجینئر ز بھی سرکاری اداروں میں کم اخراجات پر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بہتات کے باعث ڈاکٹر ز بے روزگار ہیں اور بے روزگاری کا ایک سیلاب جو ان شعبہ جات میں دیکھا گیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہماری خواہش او ر خواب اگر اندرون ملک پورے نہیں ہورہے تو اپنی اولا کو ہر صورت ڈاکٹر بنانے کیلئے بیرون ممالک بھی میڈیکل کا عام ہیں اور ہزاروں طلبا و طالبات بیرون ملک باالخصوص میڈیکل کی تعلیم کے حصول کیلئے مقیم ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں پڑھنے والوں کیلئے ضروری قراردیاگیا ہے کہ PMDCکے تحت NREکاامتحان پاس کرنا ہوگا۔ بیرون ممالک سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کیلئے امتحان کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے ہی ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں سے تعلیم مکمل کرنے والوں سے یہ ٹیسٹ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنے سرکاری ادارے اور سرکار کی طرف سے منظور شدہ اداروں میں دوبارہ ٹیسٹ لینا اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد ہے اور یہ کھلاتضاد ہے۔ یہ بات بھی طے ہے جو محنتی طلبا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں وہ سرکاری اداروں میں تمام امتحانات پاس کرکے ملازمت حاصل کرتے ہیں وگرنہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سرکار ی ملازمت کررہے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پانچ سال تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر زانتہائی کم مشاہرہ پر دن رات ڈیوٹیاں دیکر اپنے والدین کے سنہری خوابوں کی تعبیر بنے نظر آتے ہیں۔ حکومتی کارپردازوں نے بیسک ہیلتھ یونٹس پرائیویٹ کردیے اور اب بڑے ہسپتالوں کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کے انتظامات ہورہے ہیں اور جو بڑے لوگ پہلے سے بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کا لجز کے مالکان ہیں، ان کے حوالے کرنے پر مذاکرات ہورہے ہیں۔ آج پاکستان اور بیرون ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اپنے ہی ملک کے ادارے PMDCکے تحت NREکے امتحانات یا ٹیسٹ پاس کر نے کی کوشش کرنے میں مسلسل ناکام نظرآرہے ہیں۔ گذشتہ سال 2025کے ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے امتحان کے نتائج کے حوالے سے ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)کے تحت منعقد کیے جانے والے نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) کا امتحان چودہ دسمبر 2025کو ملک بھر میں ہوا۔ یہ امتحان خاص طور پر بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے ضروری ہے، تاکہ وہ پاکستان میں پریکٹس /ہاؤس جاب رجسٹریشن کیلئے اہلیت ثابت کرسکیں۔ امتحان میں شامل امیدواروں کی کل تعداد سات ہزار چھیتر جسمیں ڈینٹل گریجویٹس بھی شامل ہین، کامیاب امیدواروں کی تعداد ایک ہزار چارسو تہتر رہی جبکہ ڈینٹل گریجویٹس کے کل چھ امیدوار پاس ہوئے۔ یہ نتیجہ ظاہر کر تا ہے کہ تقریباً 78فیصد اور 92فیصد ڈینٹل امیدوار ناکام رہے جو پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار، امتحانی تیاری، اور کریکولم سے میل نہ کھانے جیسے معاملات پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پی ایم ڈی سی اپنے قوانین کے مطابق ہر سال دوبارNREمنعقد کرتا ہے۔ جون2025کے امتحان میں بھی تقریباً یہی صورت حال رہی۔ ماہ جون میں میڈیکل پاس ریٹ 25-26فیصد رہا۔ بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں تعلیم کا معیار مختلف ممالک میں یکساں نہیں ہوتاپچھلے امتحان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ممالک جیسے کرغستان، چین، قازقستان، ازبکستان وغیرہ سے آئے ہوئے طلبہ کا پاس ریٹ بہت کم تھا جبکہ چند دیگر ممالک کے طلبہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہین کہ جہاں سے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہاں کے تعلیمی نصاب، تدریسی مواد اور طبی مشق Clinical Exposure)) پی ایم ڈی سی کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ امتحا میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس امتحان میں صرف تھیوری نہیں بلکہ کلینکل بنیادوں پر علم اور فیصلے کی صلاحیت بھی جانچی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کلینکل تربیت /پریکٹس میں کمزور رہے، یا ان کے تعلیمی نظا م میں پریکٹیکل امپورٹنس کی کمی تھی، اس لیے وہ اس امتحان میں بہتر کارکردگی نہ دکھاپائے۔ کسی بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل گریجویٹس نے نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیاہے کہ امتحان کو عالمی معیارات کے مطابق بنایا جائے اور نتائج کا تفصیلی سکور کارڈ شائع کیا جائے،تاکہ طلبا سمجھ سکیں کہ وہ کس شعبے میں کمزور ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ کچھ طلبا اور والدین امتحان کے معیار،پالیسی یا علامتی شفافیت سے مطمئن نہیں ہیں۔ رہامعاملہ پاکستان میں MBBSکرنے والے طلبا و طالبات کی ناکامی کا، تو ان کے لئے بھی یہ امتحان لازمی ہے تاکہ وہ پروفیشنل رجسٹریشن حاصل کرسکیں یہ بھی عام طور پر سخت مقابلہ اور میعار کی بنیاد پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص تعداد امیدوار ناکام ہوجاتا ہے جسکی بڑی وجہ امتحانی تیاری کی کمی بتائی جارہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ بیرون ممالک سے تعلیم یافتہ طلبا پاکستان کے تعلیمی معیار اور نصاب کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن ملک کے اندر سے گریجویٹس اس امتحان میں کیوں ناکام ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم اور پاس آؤٹ ہونے والے اور سرکاری اداروں سے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹس کیوں امتحان دیں۔ پانچ سال مسلسل امتحانات بعد ازاں پی ایم ڈی سی کے ماتحت امتحان اور اب ملازمت کیلئے پبلک سروس کمشن کے انٹر ویو سے پہلے امتحان آخر کیوں؟ امتحان اور ٹیسٹ لازمی قراردیا گیا پرائیویٹ اور سرکاری کالجز میں داخلے کے لیے بھی امتحان لازمی، آخر کیوں؟
