
ڈیفنس پولیس کی بڑی کارروائی بین الصوبائی ویزَل کار ڈکیت گینگ گرفتار، کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان برآمد
کراچی : ( رپوٹ :محمد حسین سومرو) گزشتہ روز ڈیفنس کے علاقے میں ایک بنگلے میں ہونے والی سنگین ڈکیتی کی واردات کے بعد ڈیفنس پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک خطرناک اور بین الصوبائی ویزَل کار ڈکیت گینگ کو ٹریس کر کے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
ڈیفنس پولیس نے جدید تکنیکی بنیادوں، خفیہ معلومات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے دو انتہائی مطلوب ملزمان کو کامیابی سے گرفتار کر لیا،
ملزمان کی گرفتاری کے لیے کراچی سمیت مختلف اضلاع کی پولیس مسلسل کوشاں تھی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت لیاقت ولد غلام حسین اور آصف ولد شریف کے ناموں سے ہوئی ہے،
جبکہ گینگ کے دیگر چار ساتھی دلشاد ولد شریف، ارسلان ولد شریف، زیشان عرف شان ولد منظور اور وقاص عرف سونو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
دورانِ تفتیش گرفتار ملزمان نے کراچی کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
ملزمان وارداتوں کے دوران ویزَل کار استعمال کرتے تھے اور گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر ڈکیتی کی وارداتیں انجام دیتے تھے،
مزید تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق پنجاب کے علاقے سرگودھا سے ہے اور یہ تقریباً ایک سال قبل کراچی آئے تھے، جہاں انہوں نے مختلف علاقوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا
ڈیفنس پولیس نے ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والی ویزَل کار برآمد کر لی ہے، جبکہ بھاری مقدار میں لوٹا گیا مال بھی برآمد کیا گیا ہے
برآمدگی ویزَل کار نمبر BF – 8310
30 بور اور 9mm پستولیں 4 عدد
7 لاکھ روپے پاکستانی نقدی
1800 درہم، 2000 ریال، 140 امریکی ڈالر
36 پرائز بانڈ 200 والے
13 پرائز بانڈ 100 والے
5 سیٹ طلائی زیورات
8 سونے کی انگوٹھیاں
سونا پگھلانے والا سامان
تقریباً دو kg آرٹیفیشل زیوارات
ایک مائیکروویو اوون
20 قیمتی گھڑیاں بمعہ باکس
شامل ہیں۔
ملزمان کا سابقہ ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف کراچی اور پنجاب کے مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج ہیں
گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر مقدمات میں بھی ان کی گرفتاری ڈالنے کا عمل جاری ہے۔
فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بہت جلد انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
