شہر کے بال رومز انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن گئے ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم نے عوامی شکایات پر کارروائی کا آغاز کردیا شہر کا انفراسٹرکچر تباہ اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کیلئے ڈی سی سینتر دردسر بن گئے
(رپورٹ سٹی اڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی)
ڈپٹی کمشنر سینٹرل شہر کا انفراسٹرکچر تباہ اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کیلئے درد سر بن گئے، ضلع وسطی میں ساڑھے 8 سوسے زائد خلاف ضابطہ تعمیرات کیخلاف انہدامی کارروائیوں اور غیر قانونی سب لیز پر سختی سے پابندی عائد کرنے کے بعد حفاظتی اقدامات نظر انداز کرنے والے بال رومز کیخلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا،عوامی شکایات پر شہریوں کیلئے مشکلات کا سبب بننے والے بال رومز کو سربمہر کرنا شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں تیزی سے بننے والے بال روم انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن گئے ہیں،حفاظتی اقدامات کو یکسر نظر انداز کرکے بنائے جانے والے بال رومز کسی ممکنہ بڑے حادثہ کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ ایس بی سی اے افسران نے مبینہ طور پر زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر بال رومز بنانے کے مبینہ طور پراجازت نامے بانٹنا شروع کردیئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بال رومز میں شادی بیاہ کی تقریبا ت بھی منعقد کی جارہی ہیں اور گاڑیوں کی پارکنگ نہ ہونے کے باعث ٹریفک جام کے سنگین مسائل پیدا ہورہے ہیں، تاہم عوامی شکایات پر ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم نے صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور اس سلسلے میں بال رومز میں حفاظتی اقدامات کو یکسر نظر انداز کئے جانے اور عوامی شکایات پر انہیں سربمہر کرنے کا آغاز کردیا ہے،واضح رہے کہ ایک ہی بلڈنگ کی ہر منزل پر بال روم بنائے جارہے ہیں جس میں نہ ہنگامی راستہ موجود ہے اور نہ ہی کسی حادثہ سے نمٹنے کیلئے حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بال رومز میں شادی بیاہ کی تقریبات بھی کی جارہی ہیں اور ایک وقت میں ہر منزل پر تین سے چار سو افراد تقریب میں شریک ہوتے ہیں اور یہ تعداد تمام منزل پر موجود بال روم کی بکنگ کی صورت میں ڈیڑھ سے دو ہزار افراد پر پہنچ جاتی ہے،اسی طرح بال رومز کے باہر پارکنگ کا کوئی انتظام نہ ہونے کے باعث ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے،عوامی شکایات پر ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم نے حفاظتی اقدامات نہ ہونے اور ٹریفک جام کا سبب بننے والے بال رومز کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا آغاز کردیا ہے،اطلاعات کے مطابق ضلع وسطی کے ٹائونز میں متعدد بال رومز قائم ہوچکے ہیں ،اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے،انہوں نے بتایا کہ بال رومز میں نہ ہی ایمرجنسی راستہ موجود ہے اور نہ ہی کسی حادثے کی صورت میں اس سے نمٹنے کیلئے کوئی حفاظتی قدامات کئے گئے ہیں ،ایسے تمام بال روم شہریوں کی زندگی کیلے خطرہ بنے ہوئے ہیں جبکہ پارکنگ نہ ہونے سے ٹریفک کے مسائل بھی درپیش ہیں ،اپنے دفتر میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزین کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک ساڑھے 8 سو سے زائد غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا ہے ،ایک سوال کے جواب میں طحہ سلیم کا کہنا ہے تھاکہ پورشن کی سب لیز پر عائد پابندی پر سختی سے عملدر آمد کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کیلئے سب رجسٹرار کے دفاتر کے باہر بینرز آویزا کئے گئے ہیں کہ پورشن کی سب لیز خلاف قانون ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔
