حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران حکومتی غفلت، ناقص پالیسیوں اور گندم کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عام آدمی بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مل مالکان کھلے بازار سے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔احمد ادریس چوہان نے کہا کہ سرکاری گوداموں میں موجود لاکھوں ٹن گندم بروقت ریلیز نہ ہونے کے باعث خراب ہو جاتی ہے اور معیار میں کمی اور ناقص اسٹوریج سسٹم کے سبب قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے،جبکہ فلور ملز اور مارکیٹ کو وقت پر گندم نہ ملنے سے مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب حکومت ایک طرف عوام کو سبسڈی دینے کے دعوے کرتی ہے، مگر دوسری طرف گندم کے ذخائر کی ناقص مینجمنٹ اور تاخیر کی وجہ سے سبسڈی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں حکومت کو بھاری مالی نقصان اور عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے اور سرکاری گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم کی بروقت ریلیز، معیاری اسٹوریج اور شفاف تقسیم کے لیے جدید اور خودکار نظام متعارف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر کی جانب سے متعدد بار اس معاملے کو اعلی سطح پر اٹھایا گیا ہے اس کے ضروری ہے کہ ہر سال پیدا ہونے والے گندم و آٹے کے بحران سے بچنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ایک مستقل اور مؤثر نظام قائم کیا جائے، جس میں حکومت، فلور ملز، تاجروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور آنے والی گندم کی فصل کے پیش نظر فوری، واضح اور قابلِ عمل پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ مارکیٹ میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکا جا سکے۔قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ آٹا عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کا بحران حکومت کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی اور عوامی اضطراب میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، ذمہ داران کا تعین کریں، اور ایک مؤثر، شفاف اور دیرپا نظام کے ذریعے عوام کو مستقل ریلیف فراہم کریں۔
