
حیدرآباد آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا ایک اجلاس صدر حاجی محمد میمن کی زیر صدارت دیالداس کلب میں منعقد ہوا جس میں نائب صدر فاروق راٹھور جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان خازن شفیق قریشی اطلاعات سیکریٹری ملک ہارون ممبرطاہر لودھی کے علاوہ خرم لودھی نے خصوصی طور پر شرکت کی اجلاس میں حیدرآباد سمیت سندھ بھر گندم بحران کے اسباب محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے آٹا چکیوں کو سرکاری گندم کا انتہائ قلیل کوٹہ کی فراہمی ایسوسی ایشن کی جانب سے فوڈ گرین گوداموں میں اسٹاک گندم انسانوں کے کھانے کے قابل ہے یا نہیں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کے بعد آٹا چکیوں کو گندم مہیا کرنے جیسی صورتحال پر غور کیا گیا اجلاس سے ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد میمن نے کہاکہ محکمہ خوراک سندھ نے جنوری 2026 میں اسٹون پالیسی کے تحت فی پتھر یومیہ 88 کلو انتہائ کم سرکاری گندم کوٹہ فراہم کیا گیا جبکہ حیدرآباد کے 90 فیصد سے زائد عوام کو گندم سے سوجی میدہ فائن اور تندوری آٹا نکالے بغیر غذائیت سے بھرپور معیاری آٹا چکیاں فراہم کرتی ہیں انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں گندم اسٹاک کرنے کے سرکاری گوداموں بالخصوص حالی روڑ پر قائم فوڈ گرین گودام میں اسٹاک میں رکھی گندم کے معیار جس میں بڑے پیمانے میں مٹی پتھر کچرہ تنکوں کی مبینہ ملاؤٹ کے پیش نظر آٹا چکی مالکان میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں جس پر ایسوسی ایشن نے سیکریٹری خوراک سمیت اعلی حکام کو دو بار تحریری خطوط لکھے ہیں جس میں آٹا چکی مالکان میں اس حوالے سے پائ جانے والی بے چینی اور گندم کا لیبارٹری۔ ٹیسٹ کرانے کی استدعا کی ہے اجلاس سے جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان نے کہاکہ سندھ میں ماضی کی طرح گندم کا مصنوعی بحران غلط منصوبہ بندی اور سرکاری گندم کی غیر منصفانہ تقسیم کا شاخسانہ اور افسران کی میگا کرپشن کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ سندھ کے 6 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے حکومت کی گندم پر 80 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دینے کے باوجود عوام مہنگی گندم کا مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں سندھ کے بیشتر سرکاری گوداموں میں اسٹاک گندم میں مبینہ خرد برد بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس جانب حکومت کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے اور خرد برد میں ملوث افسران و عملے کے خلاف بلا تفریق قانونی کاروائ کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے حکومت عوام کو مہنگائ اور قلت سے بچانے کے لئیے فوری اقدامات کئیے جائیں
