
حیدرآباد کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے کہا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد ڈویژن میں آخری پولیو کیس ستمبر میں ضلع بدین سے رپورٹ ہوا تھا جو ایک تشویشناک صورتحال ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ پولیو مہم میں مسنگ بچے ہیں تاہم اب اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے تاکہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں اور کوئی بھی علاقہ مہم سے رہ نہ جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج حیدرآباد کے مقامی ھال میں روٹری انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام منعقدہ سمارٹ کانفرنس میں پولیو پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ کمشنر حیدرآباد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) یونیسیف اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی پر عمل کیا جا رہا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی حیدرآباد ڈویژن کے ماحولیاتی نمونے منفی ہو جائیں گے جس کے بعد سندھ اور پاکستان کو پولیو فری بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے خاتمے میں ایک بنیادی پہلو فرنٹ لائن ورکرز کی مؤثر تربیت ہے کیونکہ فیلڈ میں دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات بچوں کو قطرے صحیح طریقے سے نہیں پلائے جاتے۔ اس لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پولیو کے دو قطرے درست انداز میں پلائے جا سکیں۔ اس موقع پر اِی او سی ( ایمرجنسی آپریشنز سینٹر ) سندھ کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے کہا کہ اس وقت ٹیمیں گھروں پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی درخواست کرتی ہیں مگر اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ والدین خود ویکسينیشن کا مطالبہ کریں، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت، شراکت دار اداروں اور معاشرے کو بطور ٹیم مل کر کام کرنا ہوگا,
پولیو ویکسينیشن کے لیے ڈمانڈ جنریشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریار میمن نے بتایا کہ پولیو مہم کے آغاز سے قبل انہوں نے گزشتہ ایک ماہ میں 15 اضلاع کا دورہ کیا جہاں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، شراکت دار اداروں اور فرنٹ لائن ورکرز کے غیر معمولی عزم نے انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہمات کے دوران کراچی کے ضلع ایسٹ سمیت کئی علاقوں میں ماحولیاتی نمونے منفی آئے ہیں جو مثبت پیش رفت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ مہینوں میں توجہ انتہائی حساس علاقوں پر مرکوز رکھی گئی ہے بچوں کے مس ہونے کے مسئلے پر مائیکرو پلانز اپ ڈیٹ کیے گئے ہیں۔ کانفرنس کے دوران عالمی ادارہ صحت سندھ کے سربراہ ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا کہ سندھ میں رپورٹ ہونے والے تمام پولیو کیسز کے جینیاتی روابط افغانستان سے ملتے ہیں اس لیے خطے میں پولیو کے خاتمے کے لیے افغانستان میں بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ سمارٹ کانفرنس میں مختلف معزز شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈویژنل ڈائریکٹر انفارمیشن شہید بینظیر آباد اور روٹری انٹرنیشنل کے پبلک امیج کوآرڈینیٹر محمد موسیٰ گوندل بھی شامل تھے۔
